نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 151 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 151

کر کے پہنچے گی تو ضاآئین بن کر پہنچے گی۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ رحمانیت سے عاری لوگوں کو مغضوب کہا گیا یعنی یہود کو۔اور رحیمیت کی صفت کا انکار کرنے والوں کو ضالین کہا گیا یعنی نصاری کو۔یہود کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے اُن کے دل پتھر ہو گئے تھے۔وہ خدا کی رحمانیت سے منحرف ہو گئے اور رحمانیت کا کوئی جلوہ انہوں نے اختیار نہیں کیا۔کامل طور پر سخت دل ہو گئے۔چنانچہ ان کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا غیرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ان لوگوں کا رستہ نہ ہو جو رحمانیت کو نظر انداز کر کے بالآخر ملِكِ يَوْمِ الدین تک پہنچتے ہیں۔کیونکہ وہ مغضوب ہو جاتے ہیں۔اور ان لوگوں کا رستہ بھی نہ ہو جو رحیمیت کو نظر انداز کر کے بالآخر ملك يَوْمِ الدِّينِ تک پہنچتے ہیں کیونکہ وہ ضالین ہو جاتے ہیں۔رحیمیت کیا ہے؟ اعمال کے نظام کا ایک نقشہ ہے۔جس میں اللہ کے رحم پر سہارا کرتے ہوئے انسان جو بھی نیک عمل کرتا ہے اس کی نیک جزا پاتا ہے۔عیسائیت کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ایسا کوئی خدا ہمیں نظر نہیں آتا جو نیک اعمال کو قبول فرماتے ہوئے اس میں اپنے رحم کا حصہ شامل کرتے ہوئے ہمیں جزا دے اور ہمیں ہلاکتوں سے نجات بخشے۔بلکہ ایسا ظالم خدا نظر آتا ہے کہ تمام اعمال جو ہم کرتے ہیں خواہ وہ کیسے ہی اعلیٰ پایہ کے ہوں، کیسی ہی حسین شکلیں اختیار کر جائیں بالآخر خدا اس رنگ میں ”عدل“ کا سلوک کرے گا کہ ہمیں گناہگار ہی لکھے گا یعنی یہ عجیب عدل کا تصور ہے۔تمام زندگی کے نیک اعمال کے بعد بھی ہم گناہگار کے گناہگار لکھے جائیں گے۔محض اس لیے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے گناہ کیا تھا۔اس لیے رحیمیت کا کوئی نظام بھی انسان کو بچا نہیں سکتا۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا اور اس کو ہماری خاطر مصلوب کیا۔یعنی یہ بھی عدل کا عجیب تصور ہے کہ ایک شخص کو بچانے کے لیے ایک اور بیچارے معصوم آدمی کو سولی پر لٹکا دیا تا کہ جولوگ رحیمیت سے عاری ہو کر کوئی فیض نہیں پاسکتے میرا بیٹا اُن کے لیے بلاک ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں اُن پر رحم کیا جائے۔151