نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 150 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 150

وہ راہ اختیار کرو جو حد کے دروازہ سے شروع ہوتی ہے۔حمد باری تعالیٰ سے تم اس سفر میں داخل ہو گے تو پہلے تمہیں ربوبیت نظر آئے گی۔یعنی ہر ادنی چیز کا اعلیٰ حالت میں تبدیل ہوتے رہنا۔اور یہ حالت کلیہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ وقدرت میں ہے۔اس کے ہر نظام میں تم ربوبیت کا نظام دیکھو گے۔ہر چیز جو پیدا ہوتی ہے معا ایک سفر شروع کر دیتی ہے۔کوئی چیز بھی ٹھہراؤ کی حالت میں نہیں ملتی۔اس ربوبیت کی حمد کرتے ہوئے تم یہ معلوم کرو گے کہ اگر چہ آغاز میں بھی رحمانیت اور رحیمیت کا دور تھا یعنی جس کی طرف بسم اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔میں اشارہ ہے۔(اسکی تفصیل بیان کرنے کا یہاں وقت نہیں) مگر اس کے بعد پھر ایک رحمانیت اور رحیمیت کا تم دور دیکھو گے اور مذہبی دنیا کے لحاظ سے خدا تمہیں رحمان بھی نظر آئے گا اور رحیم بھی نظر آئے گا۔بن مانگے تمہیں اس نے قرآن عطا فرما دیا جو اس کی رحمانیت کا مظہر ہے جیسا کہ فرمایا: الرحمن - عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (الرحمن (52) یعنی تخلیق خواہ روحانی دنیا کی ہو یا مادی دنیا کی ، دونوں رحمان سے نکلتی ہیں۔لیکن رحمانیت کا یہ جلوہ دکھانے کے بعد رحیمیت کے دور میں داخل کر دیا۔یعنی جزا و سزا کے دور میں تم اپنے اعمال کے ذریعہ مزید اچھے بھی بن سکتے ہو، برے بھی بن سکتے ہو۔اچھے اعمال کے نتیجہ میں اچھا نتیجہ پاؤ گے اور برے اعمال کے نتیجہ میں برا نتیجہ دیکھو گے۔یہ سب سفر طے کرنے کے بعد تم اپنے رب کے حضور حاضر ہو جاؤ گے اور تمہارا کچھ بھی نہیں رہے گا۔پھر سب کچھ اللہ کی طرف واپس لوٹ چکا ہوگا۔یہ جوسفر بیان فرمایا اس سفر کے اندر رحمانیت میں سے گزرنا اور پھر رحیمیت میں سے گزرنا ضروری ہے۔یعنی ہر چیز جو خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا مظہر بنتی ہے۔وہ اگر رحمانیت اور رحیمیت میں سے ہو کر ملِكِ يَوْمِ الدّین تک پہنچے گی تو یہ وہ صراط مستقیم ہے جو انْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کی راہ ہے۔اگر شارٹ سرکٹ کرے گی تو پہنچے گی تو پھر بھی ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کے پاس ہی لیکن اگر رحمانیت کو نظر انداز کر کے پہنچے گی تو مغضوب بن کر پہنچے گی۔اگر رحیمیت کو نظر انداز 150