نُورِ ہدایت — Page 152
پس رحیمیت کے نظام کو تہس نہس کر دینا عیسائیت کا نام ہے۔یہ عیسائیت کا خلاصہ ہے۔آپ جس پہلو سے بھی عیسائیت کو دیکھیں گے وہ رحیمیت کے منکر نظر آئیں گے اپنے نظریات میں بھی اور اپنے اعمال کے لحاظ سے بھی۔اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ضالین ہیں۔مومن کے لئے صراط مستقیم پر چلنا اسی طرح ہے جس طرح ہر دوسری چیز کے لیے ہے۔لیکن مومن کی صراط مستقیم ربوبیت سے ہوتی ہوئی حمد کے دروازہ سے داخل ہوتی ہے۔ربوبیت کا نظارہ کرتی ہوئی وہ رحمانیت میں داخل ہوتی ہے۔رحمانیت سے وہ رحیمیت میں چلی جاتی ہے۔رحیمیت سے پھر وہ اپنے مالک یوم الدین یعنی اپنے رب کے حضور حاضر ہو جاتی ہے۔یہ وہ راہ ہے جس كو القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ۔کہا گیا اور جہاں ربوبیت نظر انداز ہو یا رحمانیت نظر انداز ہو یارحیمیت نظر انداز ہو وہ ساری ٹیڑھی راہیں ہیں اور اللہ کے غضب کی راہیں ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ حمد کے راستہ سے ہم کس طرح داخل ہوتے ہیں اور رحمانیت کی راہ سے خدا تک پہنچنے کا اور رحیمیت کی راہ سے خدا تک پہنچنے کا مطلب کیا ہے؟ اس کے تین پہلو ہیں۔اول۔نظریاتی لحاظ سے انسان کلیہ یہ تسلیم کرے کہ الحمد للہ ساری حمد خالصہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو اب بھی ہے ، رحمان بھی ہے، رحیم بھی ہے اور مالک یوم الدین بھی ہے۔پھر یہ ایک الگ مضمون شروع ہو جاتا ہے اس کو میں فی الحال چھوڑ کر اصل مضمون کی طرف جلد مائل ہونا چاہتا ہوں۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ نظریہ دل پر وارد ہو جائے اور دل کے جذبات پر بھی قابض ہو جائے۔یعنی انسان حمد صرف زبان سے نظریہ کے طور پر بیان نہ کرے۔بلکہ دل اس حمد کو محسوس کرے اور ایک لذت پائے اور ایک محبت محسوس کرے اور اللہ تعالیٰ کے لیے ایک جوش پائے۔یہ حمد کی دوسری شکل ہے۔یعنی ذہن سے دل میں ڈوبتی ہے اور نظریہ ایک محبت کی شکل میں ڈھل جاتا ہے۔جذبات کی شکل میں وہ نظریہ موجزن ہو جاتا ہے اور پھر ربوبیت سے اپنا تعلق جوڑتا ہے۔152