نُورِ ہدایت — Page 975
دوسرے سے وہ معاملہ کیا جائے گا جو اصحاب الفیل سے کیا گیا۔صرف اسی شخص کا نقطۂ نگاہ صحیح سمجھا جائے گا جو یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ کیا رب البيت نے کیا ہے۔بیت نے نہیں کیا۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ۔جو کچھ ملہ والوں سے سلوک ہو رہا ہے اس کی وجہ رَبُّ البیت کے سوا کوئی نہیں۔اگر اس گھر کا کوئی رب نہ تھا تو اصحاب الفیل کو کس نے تباہ کیا۔اگر رب البيت نہ تھا تو مکہ کی حفاظت اس طرح صدیوں تک کس نے کی۔اگر رب البيت نہ تھا تو مکہ والوں کو رزق کس نے مہیا کیا۔اگر رَبُّ البيت نہ تھا تو ان کے ان سفروں میں یہ برکات کس طرح رکھی گئیں۔اگر رب البيت نہ تھا تو آنے والے موعود کی یاد دلانے کے لئے جس کی خاطر یہ گھر بنایا گیا تھا مگہ والوں کو ان ملکوں سے کس نے روشناس کروایا۔پس جب تمہارے ساتھ جو کچھ سلوک کر رہا ہے خدا تعالیٰ کر رہا ہے تو یہ کیسی قابل شرم حرکت ہے کہ تم خدا کو چھوڑ کر لات اور منات اور علی کی پرستش کر رہے ہو اور سمجھتے ہو کہ خانہ کعبہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ہم جو جی چاہے کرلیں۔ہمارے لئے جائز ہے۔تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس خانہ کعبہ کی عزت بھی رب البیت کی وجہ سے ہے اور جب اس کی عزت بھی رب البیت سے وابستہ ہے اور اسی نے تم کو ترقیات بخشی ہیں تو کیا تمہارا فرض نہیں کہ تم شرک چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔گویا عبادت اور توحید دونوں پر اس آیت میں زور دیا گیا ہے۔کہا جاسکتا ہے کہ جھوٹے معبودوں اور مندروں اور پجاریوں کی بھی تو دنیا میں عزت کی جاتی ہے۔پھر کیا وہ عزت بھی اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ بتوں نے ان کو عزت دی ہے۔یعنی تم یہ کہتے ہو کہ اس خانہ کعبہ کی عزت رَبُّ البیت کی وجہ سے ہے حالانکہ دنیا میں ایسے مندر بھی موجود ہیں جن کی بڑی عزت کی جاتی ہے پھر کیا ان کی عزت بھی ان کے بتوں کی طرف منسوب ہوسکتی ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان بتوں نے ان کو عزت دی ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ جھوٹی اور سچی چیزیں ایک ہی وقت میں دنیا میں موجود رہتی ہیں۔سونا 975