نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 974 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 974

خاص خوبی کا مالک سمجھ لیتے ہیں تو ہمارا یہی فعل مشرکانہ فعل بن جاتا ہے۔حضرت عمرؓ نے حجر اسود کو چوما مگر وہ مشرک نہیں تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ حجر اسود اپنی ذات میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔میرے رب کا حکم مجھے لایا اور میں نے اسے چوما۔لیکن اگر کوئی دوسرا شخص حجر اسود کو چومتا ہے اور دل میں سمجھتا ہے کہ حجر اسود میں کوئی خاص بات ہے جس کی وجہ سے اسے چوما جاتا ہے تو وہی شخص مشرک بن جائے گا۔اگر ایک شخص خانہ کعبہ کا اس لئے طواف کرتا ہے کہ میرے خدا نے اس کے طواف کرنے کا حکم دیا ہے تو وہ بڑا موحد ہے۔اور اگر کوئی شخص خانہ کعبہ کا اس لئے طواف کرتا ہے کہ اس گھر میں کوئی خاص طاقت ہے تو وہ مشرک ہے۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ تم سمجھتے ہو اس بیت کی وجہ سے تمہیں یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔احمقو! یہ سب کچھ اس بیت نے نہیں کیا بلکہ رَبُّ الْبَيت نے کیا ہے۔اس گھر کو تو خدا نے محض ایک علامت کے طور پر مقرر کیا ہے۔جیسے پرانے زمانہ میں دستور تھا کہ بادشاہ کسی بکرے یا اونٹ وغیرہ پر اپنا نشان لگا کر اسے آزاد چھوڑ دیتے تھے اور کسی کی طاقت نہیں تھی کہ اس کو نقصان پہنچا سکے اور اگر کوئی اس کو نقصان پہنچاتا تو اس کے معنے یہ ہوتے تھے کہ بادشاہ کی ہتک کی گئی ہے۔چنانچہ جب کوئی مخالف بادشاہ اس بکرے یا اونٹ کو مارڈالتا تو اس سے لڑائی شروع ہو جاتی تھی۔اس لئے نہیں کہ اس نے اونٹ کو مارا ہے۔اس لئے نہیں کہ اس نے گھوڑے کو مارا ہے۔اس لئے نہیں کہ اس نے بکرے کو مارا ہے۔اس لئے نہیں کہ اس نے دنبہ کو مارا ہے۔بلکہ اس لئے کہ بادشاہ یہ سمجھتا تھا کہ اس نے میری ہتک کی ہے۔اسی طرح بیت اللہ کو خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ علی ایم کی امت کے لئے ایک مرکز اور اولاد ابراہیم کو جمع رکھنے کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔پس وہ خدا کی ایک علامت ہے جو دنیا میں پائی جاتی ہے۔اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ اس گھر میں کوئی خاص بڑائی پائی جاتی ہے تو وہ مشرک ہے اور اگر کوئی شخص اس کی یہ سمجھ کر ہتک کرتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ نشانی نہیں تو وہ خدا کا بھی دشمن ہے۔ایک سے وہ معاملہ کیا جائے گا جو مشرکوں سے کیا گیا اور 974