نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 976 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 976

بھی موجود ہوتا ہے اور ملمع بھی موجود ہوتا ہے مگر کیا ملمع کی وجہ سے لوگ سونے کو چھوڑ دیا کرتے ہیں؟ اسی طرح دنیا میں سیپ کے بنے ہوئے موتی بھی موجود ہیں۔اور اصلی موتی بھی موجود ہیں۔نقلی ہیرا بھی موجود ہے اور اصلی ہیرا بھی موجود ہے۔ایسی صورت میں ہم کیا کرتے ہیں۔کیا ہم اصلی چیزوں کو چھوڑ دیا کرتے ہیں یا ہم یہ کیا کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ایسی امتیازی علامات ہیں جن پر پر کھ کر ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ جھوٹا کونسا ہے اور سچا کونسا ہے۔ہم جھوٹے موتیوں کی وجہ سے اصلی موتیوں کو چھوڑ نہیں کرتے۔ہم جھوٹے ہیروں کی وجہ سے اصلی ہیروں کو چھوڑا نہیں کرتے۔ہم جھوٹے سونے کی وجہ سے اصلی سونے کو چھوڑا نہیں کرتے۔بلکہ ہم یہ کہا کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ایسے امتیازی نشانات ہیں جن پر پر کھ کر ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ نقلی چیز کونسی ہے اور اصلی چیز کونسی۔اسی طرح اس معاملہ میں بھی ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ یہ عزت جو خانہ کعبہ کو حاصل ہوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی یا نہیں اور اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی تو اس کا امتیازی نشان کیا تھا جو اسے دوسرے معبدوں اور مندروں سے ممتاز کر دے۔اسی کو ایک اور مثال سے یوں سمجھ لو کہ ماں باپ بچے کو پالتے ہیں اور ماں باپ کی خدمت بچہ سے طبعی محبت کا ثبوت ہوتی ہے لیکن بعض دفعہ ٹھگ بچہ چرا کر لے جاتے ہیں اور بچہ کو آئندہ کی شرارت کی غرض سے پالتے ہیں۔وہ اس کو بداخلاق، چور اور ڈاکو بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر بہر حال وہ پالتے محبت سے ہیں۔اگر ماں باپ کی طرح محبت سے نہ پالیں تو وہ فوراً بھاگ جائے۔گویا وہ محبت تو کرتے ہیں مگر ان کی محبت جھوٹی ہوتی ہے۔اب کیا ان کا پالنا اس امر کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے کہ ماں باپ کو بھی بچہ سے محبت نہیں ہوتی۔حقیقت یہ ہے کہ جس طرح اصلی اور نقلی چیزوں میں بڑا بھاری فرق پایا جاتا ہے اسی طرح جھوٹے معبودوں اور مندروں اور پجاریوں کی عزت اور اس عزت میں بڑا بھاری فرق ہے جو خانہ کعبہ کو حاصل ہے۔اور وہ فرق یہ ہے کہ خانہ کعبہ اتفاقی طور پر معزز نہیں ہوا بلکہ خانہ کعبہ کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے الہام سے رکھی گئی۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے اولَ بَيْتٍ وُضِعَ 976