نُورِ ہدایت — Page 874
ہے جس کا کفار بھی انکار نہیں کرتے تھے اور وہ تسلیم کرتے تھے کہ ہر انسان ایک دن لازماً مرجائے گا۔پس اس قاعدہ کا اطلاق یہاں درست نہیں۔یہ قاعدہ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں مخاطب تو انکار کر رہا ہو اور متکلم کو اپنے کلام پر زور دینا مقصود ہو۔میرے نزدیک ان آیات میں مقابر کے لفظ سے مٹی والی قبریں مراد نہیں بلکہ تباہی اور بر بادی مراد ہے اور اگر ہم یہ معنے کریں تو یہ آیات اپنے مطالب کے لحاظ سے وسیع بھی ہو جاتی ہیں اور کسی غیر معمولی تاویل کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آلْهُكُمُ التَّكَاثُرُ۔تم لوگوں کو تکاثر نے اتنا غافل بنادیا ہے کہ جن چیزوں سے تکاثر نے تمہیں روکا تھا ان کی طرف تم لوٹ نہیں سکے یہاں تک کہ تم تباہی کے سرے پر پہنچ گئے اور تمہاری بربادی کا وقت آگیا۔پس زُرتُمُ الْمَقَابِرَ سے مقبرہ جسمانی مراد نہیں بلکہ یہ وہ مقبرہ ہے جس کا محاورہ زبان میں ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ فلاں قوم تو مرگئی یا فلاں شخص کے متعلق تم کیا پوچھتے ہو وہ تو مر گیا۔یعنی اس کے اندر بیداری کی روح نہیں رہی، اس میں اخلاقی زندگی نہیں رہی، اس میں دینی زندگی نہیں رہی ، اس میں قومی زندگی نہیں رہی، اس میں سیاسی زندگی نہیں رہی، اس میں عائلی زندگی نہیں رہی۔جب کسی قوم یا فرد کی یہ حالت ہو تو کہتے ہیں کہ اس پر موت طاری ہو گئی۔پس یہاں ان ساری چیزوں کی نفی کی گئی ہے جن سے تکاثر انسان کو محروم کر دیا کرتا ہے۔اور کہا گیا ہے کہ تم میں دین بھی نہیں رہا تم میں دنیا بھی نہیں رہی، تم میں اخلاق بھی نہیں رہے، تم میں علم بھی نہیں رہا۔ایسا آدمی کسی ایک موت کے نیچے نہیں ہزاروں موتوں کے نیچے دبا ہوا ہوتا ہے۔پس آلهُكُمُ الشَّعائر کے معنے یہ ہوں گے کہ قومی طور پر تم پر تنزل اور بربادی کا وہ دور آ گیا ہے کہ جس کے بعد کوئی قوم زندہ نہیں کہلا سکتی۔اور گو اس میں مکہ والے مخاطب ہیں مگر اس ذریعہ سے یہ قانون بھی بیان کر دیا گیا ہے کہ جو قوم تکاثر کے پیچھے پڑتی ہے وہ مقبرہ کو پہنچ جاتی ہے۔یعنی وہ قوم آخر مر جاتی اور دنیا سے ہمیشہ کے لئے نابود ہو جاتی ہے۔874