نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 875 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 875

جب ایسا زمانہ آتا ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کی دنیوی عزت دیکھ کرلوگ واہ واہ کہنے لگ جاتے ہیں تو یکا شر کا راستہ کھل جاتا ہے اور وہ اس واہ واہ کے اثر کے نیچے اسی راستہ پر چلنے لگتے ہیں جس راستہ پر پہلی قومیں چلیں اور جو اصل چیز ہوتی ہے اسے بھول جاتے ہیں۔اور جب دین کو بھول جاتے ہیں تو خالص مقصود دنیا رہ جاتی ہے اور وہ بے تحاشا اس کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔آخر اس کے تین نتائج پیدا ہوتے ہیں۔اوّل۔بنی نوع انسان میں ان کے خلاف ردعمل پیدا ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تکاثر کے نتیجہ میں تکبر پیدا ہوتا ہے اور تکبر کے نتیجہ میں لوٹ مار اور ظلم پیدا ہوتا ہے۔آخر بنی نوع انسان میں ان کے خلاف جوش پیدا ہوتا ہے اور وہ حکومت کو تباہ کرنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔دوم۔کبھی بنی نوع انسان میں تو ان کے خلاف رد عمل پیدا نہیں ہوتالیکن ان کی اپنی اولادان کی کمائی کو استعمال کر کے عیاش ہو جاتی ہے اور اس طرح ان میں اندرونی زوال پیدا ہونے لگتا ہے۔باپ دادا کی جائیداد چونکہ مفت ہاتھ میں آجاتی ہے اس لیے عیاشی میں مبتلا ہو کر وہ سب کچھ برباد کر دیتے ہیں۔بڑے بڑے بادشاہ ہوتے ہیں مگر عیاشی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ انہوں نے کنچنیاں رکھی ہوئی ہوتی ہیں۔شرابیں پیتے رہتے ہیں اور حکومت کے کاموں کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ برباد ہو جاتے ہیں اور ان کی حکومت امراء میں تقسیم ہو جاتی ہے۔سوم۔یا پھر اللہ تعالیٰ سے ہی اس قوم کی نگر ہو جاتی ہے۔یعنی کوئی ایسا سبب پیدا ہو جاتا ہے کہ دنیوی تباہی کے سامان تو نہیں ہوتے لیکن خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہو کر اس قوم کو بالکل تباہ کردیتا ہے۔غرض جب کوئی قوم تکاثر کے نتیجہ میں زُرتُمُ الْمَقَابِر کے مقام پر پہنچ جائے تو اس میں ان تین حالتوں میں سے کوئی ایک حالت ضرور پیدا ہو جاتی ہے۔یا تو رعایا میں رد عمل پیدا ہوتا ہے 875