نُورِ ہدایت — Page 873
ہوتے ہیں اور بوسیدہ عمارت ایک جھونپڑی سے بھی بے قیمت ہوتی ہے۔م اس سورۃ کا جوشان نزول بتایا جاتا ہے اس کے معنے صرف اتنے ہیں کہ بعض واقعات کے زمانہ میں بھی ایسے ہوئے جن پر یہ سورۃ چسپاں ہوتی ہے ورنہ یہ سورۃ اپنے اندر بہت رض صحاب وسیع مطالب رکھتی ہے۔چونکہ اس سورۃ میں ماضی کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اس لئے بعض لوگوں کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سورۃ میں ماضی کے الفاظ کس حکمت کے ماتحت استعمال کئے گئے ہیں اور چونکہ انہوں نے زُرتُمُ الْمَقَابِر کے معنے انسان کے مرجانے اور اس کے قبر میں داخل ہو جانے کے کئے ہیں۔اس لئے بعض نے کہا ہے کہ الْهُكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرتُمُ الْمَقَابِر تحقق وقوع کے لئے آیا ہے۔یعنی تکاثر نے تم کو غافل کر دیا یہاں تک کہ تم مر گئے۔یعنی چونکہ یہ بات ضرور ہو کر رہنی ہے اور موت ایسی چیز ہے جس سے کسی انسان کو مفر نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں ماضی کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔یہ بتانے کے لئے کہ بات ایسی قطعی اور یقینی ہے کہ ہم اس کے مضارع کا صیغہ استعمال کرنے کی بجائے ماضی کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔مگر میرے نزدیک یہ بات صحیح نہیں۔اس لئے کہ تحقیق وقوع کا مسئلہ وہاں چسپاں ہوتا ہے جہاں وقوعہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو۔مثلاً قرآن کریم نے یہ پیشگوئی کی کہ محمد رسول اللہ سلیم جیتیں گے اور مکہ کو ایک دن فتح کرلیں گے۔اب لگہ کا فتح ہونا کفار کی نظروں سے بالکل پوشیدہ امر تھا اور وہ اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے تھے کہ محمد رسول الله علی ایم کی ایک دن اپنے صحابہ سمیت مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوں گے اور کفار ان کے زیر نگین آجائیں گے۔پس چونکہ یہ بات کفار کی نگاہ میں بالکل غیر ممکن تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس پر زور دینے کے لئے ماضی کا صیغہ استعمال کر دیا اور بتادیا کہ تم تو اس پیشگوئی کو نہیں مانتے لیکن ہم اسے ایسا قطعی اور یقینی سمجھتے ہیں جیسے ماضی یقینی ہوتی ہے اور جس کے وقوع میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہوتا۔لیکن زیارت قبور یا قبروں میں داخل ہونا تو ایک ایسی بات 873