نُورِ ہدایت — Page 788
کے لحاظ سے اس آیت کا یہ مفہوم ہے کہ تیرے اندر یہ جذ بہ شوق پایا جاتا تھا کہ تو ہر مسکین اور یتیم کو پناہ دے۔جو بھی درماندہ اور بے کس انسان تجھے نظر آتا تو اسے اپنی آغوش شفقت میں لے لیتا۔اس کے سر پر اپنی محبت کا ہاتھ رکھتا اور اس کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا۔جب ہم نے تیرے اس جذبہ محبت اور جذبہ ہمدردی کو دیکھا تو ہم نے بھی اپنی دولت تیرے سپرد کر دی تا کہ تو ہمارے بے کس اور نادار بندوں کا کفیل ہو۔یہاں دولت سے مراد صرف جسمانی دولت نہیں بلکہ روحانی دولت بھی مراد ہے اور یتامیٰ ومساکین سے مراد بھی صرف جسمانی بیتامی و مساکین نہیں بلکہ روحانی بیتامی و مساکین بھی مراد ہیں۔غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ صرف تجھے ہم نے پالا اور تیری پرورش کا سامان کیا بلکہ تیرے ذریعہ سے اور ہزاروں یتامیٰ و مساکین کی پرورش کا بھی ہم نے انتظام کر دیا۔جسمانی یتیم، جسمانی مسکین ، جسمانی غریب اور جسمانی نادار روٹی کھا کر شہادت دے رہے رض ہیں۔کہ محمد رسول اللہ علیم ایک راستباز انسان ہیں اور روحانی یتیم ابوبکر اور عمر اور عثمان اور علی اور طلحہ اور زبیر تیری تعلیم سے مطمئن ہو کر گواہی دے رہے ہیں کہ ہم بڑے بھوکے تھے اگر سیری حاصل ہوئی تو اسی خوان بدی سے جو اس پاک نفس نے پیش کیا۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ آئندہ بھی خدا ہمیشہ تیرے ساتھ ہو گا۔ہمیشہ تیری تائید کرے گا۔ہمیشہ تجھے اپنی نصرت عطا کرے گا۔جو خدا آج تک تیرے کام آتا رہا ہے جس نے ایک لمحہ کے لئے بھی تجھے کبھی نہیں چھوڑا۔وہ آئندہ تجھے کس طرح چھوڑ سکتا ہے؟ اس آیت کے یہ بھی معنے ہیں کہ آپ کے روحانی عیال جوں جوں زیادہ ہوتے جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کی خبر گیری کے سامان پیدا کرتا جائے گا۔چنانچہ جس قدر معلم علم دین رسول کریم صل ملک کو ملے اور کسی نبی یا بزرگ کو نہیں ملے۔اسی وجہ سے آپ نے فرمایا أَصْحَابِي كَالنُّجُوْمِ بِأَتِهِمِ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ - میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں جس کے پیچھے بھی چلو گے ہدایت پا جاؤ گے۔788