نُورِ ہدایت — Page 789
فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرُ میں اسی طرف اشارہ ہے کہ اے محمد رسول اللہ علم تو یتیم تھا ہم نے تجھے پالا۔اب دنیا میں ہمارے اور بھی بہت سے یتیم بندے ہیں ان کی پرورش تیرے ذمہ ہے اور تیرا فرض ہے کہ تو ان کی نگرانی رکھے اور ان کی تکالیف کا ازالہ کرے۔لا تقهر کہہ کر اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ یتیم کی پرورش اس رنگ میں نہیں کرنی چاہئے کہ وہ خراب ہو جائے۔یعنی نہ ایسی سختی کرو کہ جس کے نتیجہ میں اس کے قویٰ دب جائیں اور وہ ترقی سے محروم ہو جائے اور نہ ایسی نرمی کرو کہ جس سے ناجائز فائدہ اٹھا کر وہ اپنے اوقات اور اپنے قومی کو برباد کر دے۔قھر کے معنے دراصل غلبہ کے ہوتے ہیں۔پس لا تقهر کے معنے یہ ہوئے کہ اس سے ایسا معاملہ نہ کرو جس کے نتیجہ میں تم اس کے قوائے دماغیہ اور جسمانیہ پر غالب آجاؤ اور اس کی ترقی کو نقصان پہنچادو۔انسانی ترقی کو دو ہی طرح نقصان پہنچتا ہے یا بے جا سختی سے یا بے جانرمی اور محبت سے۔پس لا تقهر کہہ کر اللہ تعالیٰ نے بے جا سختی سے بھی روک دیا اور بے جا نرمی سے بھی منع فرما دیا۔اور نصیحت کی کہ یتیم سے تم ایسا ہی معاملہ کرو جو اس کی اچھی تربیت کے لئے ضروری ہو۔فرماتا ہے سائل کو تم جھڑ کو نہیں کیونکہ تم بھی سائل تھے۔محبت کی بھیک ہم سے مانگنے کے لئے آئے تھے۔ہم نے تمہارے سوال کورڈ نہ کیا بلکہ تمہارے دامن کو گوہر مقصود سے بھر کر لوٹایا۔اب تم سے اور لوگ محبت کی بھیک مانگنے آئیں گے۔تمہارا فرض ہے کہ تم ان سائلوں کی طرف ہمہ تن متوجہ رہو اور ان کی خواہشات کو پورا کرو۔أمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَيْت تحدیث نعمت دو طرح ہوتی ہے۔ایک اس طرح کہ انسان علیحدگی میں اللہ تعالی کے احسانات کا شکر ادا کرے اور اس کے پیہم فضلوں کو دیکھ کر سجدات شکر بجالائے اور زبان کو اس کی حمد سے تر رکھے۔دوسرا طریق تحدیث نعمت کا یہ ہوتا ہے کہ لوگوں میں اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے کتنا بڑا فضل کیا۔فرماتا ہے ہم نے جو نعمتیں تجھے عطا کی ہیں ان کا خود بھی شکر ادا کرو اور اپنے رب کی ان نعمتوں کا لوگوں میں بھی 789