نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 787 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 787

اپنا فیضان تجھ کو عطا کیا اور تجھے ایسی تعلیم عطا کی جو مکہ والوں کو قعر مذلت سے اٹھا کر ترقی کے بلند تر مینار پر پہنچانے والی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایک دعوی تھا جو محمد رسول اللہ عالی کی طرف سے کیا جا رہا تھا مگر دعوی وہ تھا جسے پر کھا جاسکتا تھا۔قرآن کریم لوگوں کے سامنے موجود تھا اور انہیں کہا جا سکتا تھا کہ آؤ اور دیکھو کہ اس میں قوموں کو ابھارنے والی تعلیم موجود ہے یا نہیں اسی طرح رسول کریم علیم کے قرب اور آپ کے تعلق باللہ کو وہ آپ کی دعاؤں اور آپ کے نشانات کے ذریعہ دیکھ سکتے تھے۔غرض نہ وہ آلَمْ يَجِدُكَ يَتِيما فَأُویٰ کی صداقت کا انکار کر سکتے تھے اور نہ وَجَدَكَ ضَالًا فَهَدی کی صداقت کا انکار کر سکتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان دو مثالوں کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب کہ تیری جسمانی پرورش بھی ہم نے کی اور تیری روحانی پرورش بھی ہم نے کی اور ہر قدم پر تیرے ساتھ اپنی تائید رکھی۔تو جسمانی توجہ کا محتاج تھا تو ہم نے تیری جسمانی پرورش کی طرف توجہ کی۔تو روحانی توجہ کا محتاج تھا تو ہم نے تیری روح پر شفقت کی نظر ڈالی۔جب ہماری محبت تیرے دل میں پیدا ہوئی تو ہم نے تجھے اپنا چہرہ دکھا دیا اور جب بنی نوع انسان کی محبت تیرے دل میں پیدا ہوئی اور ان کی خرابیوں نے تجھے بے چین کر دیا تو ان کی اصلاح اور حالات کی درستی کے لئے اپنی شریعت تجھ پر نازل کر دی۔جب ہم اپنی محبت اور اپنے سلوک کا اس قدر نمونہ تیری ذات میں دکھا چکے ہیں تو یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ آئندہ ترقیات اور ضحی کے متعلق جو خبر دی گئی ہے وہ بھی پوری ہو کر رہے گی۔جس خدا نے تجھے پیچھے نہیں چھوڑ اوہ آئندہ تجھے کس طرح چھوڑ سکتا ہے؟ وَوَجَدَكَ عَائِلاً فَأَغْلی کے دو معنے ہیں۔اوّل یہ کہ ہم نے تجھ کو کثیر العیال پایا۔اور تیری ضرورت پوری کر دی۔دوسرے یہ کہ ہم نے دیکھا کہ تو ہی ایک ایسا شخص ہے جو ہر یتیم اور بے کس کی خبر گیری کرتا ہے اس لئے ہم نے بھی تجھے دولت دے دی تا کہ تو ان کی۔ضروریات کو پورا کر سکے۔پہلے معنوں کے لحاظ سے اس آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ تو اپنے عیال کی خبر گیری کے قابل نہ تھا مگر ہم نے دولت دے کر تیری غربت کو دور کر دیا۔اور دوسرے معنوں 787