نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 781 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 781

پیش کرتے ہیں جو تاریکی سے اپنے ارد گرد کی تمام چیزوں کو ڈھانپ لے گی۔ممکن ہے کوئی کہے کہ یہاں ضحی پہلے ہے اور رات پیچھے حالانکہ فتح مکہ بعد میں ہوئی ہے اور ہجرت پہلی ہوئی ہے۔اس کی وجہ۔۔۔یہ ہے کہ الہی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے پیاروں سے بات کرتے ہوئے خوشی کی خبر پہلے سناتا ہے اور تکلیف کا ذکر بعد میں کرتا ہے تا کہ خوشی کی خبر رنج کی گلفت کو کم کرنے کا موجب بن جائے۔اس طرح دونوں مطلب پورے ہو جاتے ہیں۔غم کی خبر بھی سنا دی جاتی ہے اور خوشی کی خبر بھی سنادی جاتی ہے مگر چونکہ پہلے خوشی کی خبر آجاتی ہے اس لئے تکلیف کا احساس نسبتاً کم ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دو محل اس بات کو ثابت کر دیں گے کہ مَا وَذَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلی تیرے رب نے تجھے نہیں چھوڑا اور وہ تجھ سے ناراض نہیں ہوا۔اور چونکہ وہ غرض جو وَالضُّحیٰ پہلے رکھنے کی تھی پوری ہو گئی تھی یعنی غرض یہ تھی کہ رسول کریم عالم کو اس بات سے صدمہ نہ پہنچے کہ تجھے ہجرت کرنی پڑے گی۔اسی بناء پر خدا تعالیٰ نے رات کا ذکر پیچھے کردیا اور دن کا ذکر پہلے رکھا۔مگر چونکہ اس آیت سے غرض پوری ہوگئی اس لئے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ترتیب اصلی کو قائم کر دیا۔چنانچہ مَا وَذَعَكَ رَبُّكَ جواب ہے وَالَّيْلِ إِذَا سجی کا اور ما قلی جواب ہے والضُّحیٰ کا۔چونکہ غرض پوری ہو چکی تھی اور اب اس بات کی کوئی ضرورت تھی کہ واقعاتی ترتیب کو بدلا جاتا اس لئے اللہ تعالی نے پہلی آیات کی ترتیب کو الٹ دیا اور فرمایا اے محمد ا ا ا جب وَاليْلِ إِذا سجی میں بیان کردہ واقعہ ہوگا اور مکہ تجھے چھوڑنا پڑے گا تو اللہ تعالی اس وقت تجھے چھوڑے گا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ غار ثور میں جب حضرت ابو بکر گھبرائے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ دشمن اتنا قریب پہنچ گیا ہے کہ اگر وہ ذرا اپنے سر کو جھکائے تو ہمیں اس غار میں سے دیکھ سکتا ہے تو رسول اللہ صلیم نے فرمایا لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا مت کر خدا ہمارے ساتھ ہے۔دوسری چیز فتح مکہ ہے اس کے لئے ماقلی کا لفظ خدا تعالیٰ نے استعمال کیا ہے۔مگہ والوں کا یہ خیال تھا کہ جو شخص مکہ پر حملہ کرے گا خدا کا غضب اس پر نازل ہوگا۔وہ ابر ہ کے حملہ کو دیکھ 781