نُورِ ہدایت — Page 782
چکے تھے کہ کس طرح وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت حملہ آور ہوا اور پھر کس طرح خدا تعالیٰ نے اسے اپنے غضب کا نشانہ بنادیا۔وہ سمجھتے تھے کہ مکہ پر حملہ کرنے والا چونکہ خدا تعالیٰ کی نارضامندی کا مورد بنتا ہے اس لئے وہ تباہ ہوجاتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیرے معاملہ میں ایسا نہیں ہوگا بلکہ شیحی کا وقت اس بات کی شہادت دے گا کہ تیرا خدا تجھ سے ناراض نہیں۔اگر وہ ناراض ہوتا تو تجھ پر عذاب کیوں نازل نہ کرتا۔تجھ پر اس کا عذاب نازل نہ کرنا بلکہ تیری تائید اور نصرت کرنا اور تیرے راستہ سے ہر قسم کی روکوں کو دور کرنا اور تجھے اپنے لشکر سمیت فتح و کامرانی کا جھنڈا اڑاتے ہوئے مگہ میں داخل ہونے کا موقع دینا بتارہا ہے کہ الہی منشاء یہی تھا کہ تو آئے اور اس بلد الحرام کو فتح کر کے اس میں داخل ہو جائے۔پس وَالَّيْلِ إِذا سجی میں بیان شدہ واقعہ کے ظہور نے بتادیا کہ خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ مال تعلیم کو نہیں چھوڑا اور والضحی میں بیان شدہ واقعہ نے بتادیا کہ محمد رسول اللہ العلیم کے کسی فعل سے خدا تعالیٰ ناراض نہیں۔حملا مصطفی روشنی اور سیجی اندھیرے پر دلالت کرتا ہے اور یہ دونوں حالتیں انسان پر آتی رہتی ہیں۔یعنی کبھی اس پر تکالیف آتی ہیں اور کبھی اس کے لئے خوشی کے سامان پیدا کئے جاتے ہیں۔کبھی کامیابیاں اور ترقیاں حاصل ہوتی ہیں اور کبھی ناکامیاں اور تکالیف پیش آتی ہیں۔یہ اتار چڑھاؤ دنیا میں ہمیشہ ہوتا رہتا ہے۔کبھی ترقی کا وقت آتا ہے تو کبھی تنزل کا، کبھی خوشی پہنچ جاتی ہے تو کبھی غم کبھی اولاد پیدا ہوتی ہے کبھی مرجاتی ہے۔کبھی بیمار ہو جاتا ہے کبھی تندرست ہو جاتا ہے۔کبھی دشمن کو مغلوب کر لیتا ہے اور کبھی دشمن کے عارضی طور پر جیتنے کا موقعہ آجاتا ہے۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو جیسے قرآن مجید میں ہی کئی جگہ نقشہ کھینچا گیا ہے وہ شور مچانے لگ جاتے ہیں کہ بائے مارے گئے ، ہائے مارے گئے۔اس کے مقابل میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کو ترقیات ملتی ہیں تو وہ تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں إِنَّمَا أَوْ تِيْتُهُ عَلَى عِلْمٍ عِنْدِي (القصص (8) ہمیں جو کچھ ملا ہے اپنے زور بازو سے ملا ہے، ہمارے اندر قابلیتیں ہی ایسی تھیں کہ ہمیں یہ ترقیات حاصل ہوتیں، ہم نے یوں کیا ہم نے ووں کیا اور پھر ہمیں یہ اعزاز حاصل 782