نُورِ ہدایت — Page 780
اس کا اثر ہونا چاہئے۔مثلاً ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے کہ وہ عمدہ کپڑے پہن سکتا ہے لیکن وہ ہمیشہ میلے کچیلے کپڑے پہنتا ہے اس خیال سے کہ وہ واجب الرحم سمجھا جاوے یا اس کی آسودہ حالی کا حال کسی پر ظاہر نہ ہو ایسا شخص گناہ کرتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم کو چھپانا چاہتا ہے اور نفاق سے کام لیتا ہے۔دھوکہ دیتا ہے اور مغالطہ میں ڈالنا چاہتا ہے یہ مومن کی شان سے بعید ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذہب مشترک تھا۔آپ عالم کو جو ملتا تھا پہن لیتے تھے۔اعراض نہ کرتے تھے۔جو کپڑا پیش کیا جاوے اسے قبول کر لیتے تھے لیکن آپ میلم کے بعد بعض لوگوں نے اسی میں تواضع دیکھی کہ رہبانیت کی جز و ملادی۔الحکم جلد 7 نمبر 13 مورخہ 10 اپریل 1903 صفحہ 1) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی تھی۔سورۃ انیل کے مضمون کا یہ تمہ ہے۔تھوڑ اسا دن نکل چکے تو اس وقت سے ضحی شروع ہوتی ہے اور زوال تک جاتی ہے۔سجی کے معنے ہیں جب اندھیرا ترقی کرتے کرتے اپنے کمال کو پہنچ جائے۔رسول کریم عالم کی زندگی میں ایک ضحی اور ایک لیل خصوصیت رکھتی ہیں۔ضُھی وہ دو پہر ہے جبکہ آپ مکہ کو فتح کر کے اس میں داخل ہوئے تھے اور وَالَّيْلِ إِذا سمجھی سے مراد وہ رات ہے جب کہ آپ نے مکہ کو چھوڑا تھا۔گویا والضُّحیٰ کے معنے ہوئے ایک خصوصیت رکھنے والا دن۔اور وَالَّيْلِ إِذَا سَنجی کے معنے ہوئے ایک خصوصیت رکھنے والی رات۔اور در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے بڑے واقعات اگر کوئی خلاصہ پوچھے تو یہی دو ہیں۔دشمنوں نے آپ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔پھر خدا تعالیٰ نے اپنے خاص نشانات سے دشمنوں کو تباہ کر کے آپ کو ایک فاتح کی حیثیت میں مکہ میں داخل فرمایا۔انہی دو واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم تیری سچائی کی شہادت کے طور پر یا اگلے مضمون کی سچائی کو واضح کرنے کے لئے ایک ضحی کو پیش کرتے ہیں اور ایک ایسی رات کو 780