نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 730 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 730

میں اسے اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کرنے کا حق نہیں رکھتا۔غرض وہ لوگ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ میں بھی کسی قانون کے ماتحت ہوں اور اُس قانون کو توڑ کر بیت المال کے روپیہ کو خرچ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔انہیں بہت سمجھایا جاتا ہے کہ مجھے خزانہ پر کلی اختیار نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے مجھے بھی بعض قوانین کے ماتحت رکھا ہے مگر ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی اور وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ میں بخل کی وجہ سے اُن کی مدد نہیں کرتا۔یہ حالت بتاتی ہے کہ مسلمان اسلامی تعلیم سے آج کل کس قدر دور چلے گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان امراء مغضوب ہیں جبکہ گزشتہ ایام میں مسلمان امراء اور بادشاہ نہ صرف اپنوں کے محبوب تھے بلکہ غیروں کے بھی محبوب تھے۔کیونکہ وہ حکومت کے روپیہ کو ملک اور خصوصاً غرباء کی ترقی کے لئے خرچ کرتے تھے اور امراء بھی اپنے اموال کو ایک الہی امانت سمجھتے تھے اور اسے عیاشی پر نہیں بلکہ رفاہ عام کے کاموں پر خرچ کرتے تھے۔وَالْوَابٌ مَّوْضُوعَةٌ اكواب : آبخوروں کو کہتے ہیں اور مَوْضُوعَةٌ، وَضَعَ سے ہے جس کے معنے رکھنے کے ہوتے ہیں لیکن اس میں اور حظ میں فرق ہے۔حظ کے معنے محض رکھنے کے ہوتے ہیں اور وَضَعَ کے معنے مناسب طور پر رکھنے کے ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں ہے وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا للانام (الرحمن (11) اس کے معنے یہ ہیں کہ زمین کو اس طرح بنایا کہ چار پائیوں کو اس سے فائدہ پہنچے۔اسی طرح فرما ا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ (نساء47) یعنی مناسب محل سے بدل کر دوسری جگہ رکھ دیتے ہیں۔أكواب مَوْضُوعَةٌ کے تین معنے ہو سکتے ہیں۔آبخورے مومنوں کے پاس رکھے جائیں گے۔چونکہ آبخورے کا کسی کے پاس رکھنا پینے کے لئے ہوتا ہے اس لئے ان معنوں سے یہ استنباط بھی ہوگا کہ وہ بھرے ہوئے ہوں گے۔دوسرے اس کے یہ معنے ہیں کہ آبخورے اُن کے پاس ہی دھرے ہوں گے۔730