نُورِ ہدایت — Page 729
سبیت المال سے اُن کا وظیفہ مقرر ہو گیا۔مگر اُس وقت کے لحاظ سے وہ وظیفہ صرف اتنا تھا جس سے روٹی کپڑے کی ضرورت پوری ہو سکے۔پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے۔اُن کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بالکل سادہ طور پر اپنی زندگی بسر کرتے تھے۔خلفاء میں سے صرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس دولت تھی مگر آپ چونکہ بہت تھی تھے اس لئے جو کچھ پاس ہوتا بالعوم تقسیم کر دیا کرتے تھے۔لوگ اُن پر یہ اعتراض بھی کرتے تھے کہ آپ نے فلاں کو مال دیا ہے۔فلاں کو مال دیا ہے۔آپ جواب دیتے کہ تم کو اس سے کیا؟ میرا اپنا روپیہ ہے میں جہاں چاہوں خرچ کروں۔تم اس میں دخل دینے والے کون ہو۔تو کوئی فائدہ بھی خلفاء نے بیت المال سے نہیں اُٹھایا بلکہ تمام کا تمام روپیہ انہوں نے لوگوں کے فائدہ کے لئے اپنی نگرانی میں صرف کیا۔غرض مسلمانوں کے تخت دوسروں کی نسبت بلند تھے۔دنیا کے بادشاہ قومی خزانہ کو اپنا خزانہ سمجھتے ہیں اور وہ اس پر پورا پورا تصرف رکھتے ہیں۔آج پبلک اور بادشاہتوں میں یہی جنگ جاری ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ تم روپیہ رعایا کے لئے خرچ کرو اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا روپیہ ہے ہم جس طرح چاہیں گے خرچ کریں گے۔پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اسلامی حکومت کا نقشہ کھینچا ہے اور بتایا ہے کہ اُن کے تخت مرفوعہ ہوں گے۔وہ لوگوں کے فائدہ کے لئے حکومت کریں گے۔گویا نام کے بادشاہ ہوں گے مگر حقیقتاً زمین کے بادشاہوں سے بہت بلند مقام پر ہوں گے۔وہ خزانوں کو اپنے خزانے نہیں سمجھیں گے بلکہ ملک اور قوم کی ملک تصور کریں گے۔یہی اسلامی حکومت کے معنے ہیں کہ اُس میں خزانہ کسی فرد کا نہیں ہوتا۔قوم بحیثیت مجموعی اُس خزانہ کی مالک ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض غیر احمدی جو ہماری جماعت کو بھی عام پیروں فقیروں کی جماعتوں کی طرح سمجھتے ہیں مجھے خط لکھتے ہیں کہ آپ بڑے مالدار ہیں آپ ہمیں اتنے ہزار یا اتنے لاکھ دے دیں۔میں انہیں جواب دیتا ہوں کہ میرے پاس جو مال آتا ہے وہ میر انہیں سلسلہ کا ہوتا ہے۔729