نُورِ ہدایت — Page 704
دیا ہے کہ اسلام کے خلاف مخالفین کچھ کوششیں کریں گے لیکن وہ اسلام کو گزند پہنچانے میں ناکام رہیں گے اور آخر مسلمانوں کو اپنے مخالفین پر غلبہ حاصل ہو جائے گا۔گویا صاف الفاظ میں اس سورۃ میں لڑائی کا ذکر نہیں کیا ، صرف اشارہ اس کا ذکر کیا ہے تا کہ اس وقت جب کہ مخالفین اسلام نے کھلے طور پر حملہ نہیں کیا تھا اس قسم کی باتوں کی وجہ سے اسلام کی طرف سے ابتدا نہ سمجھی جائے اور یہ خیال نہ کیا جائے کہ کفار کو انہوں نے بھڑکا دیا ہے۔اس سورۃ کا مضمون بھی اجتماعی کاموں پر دلالت کرتا ہے۔چنانچہ اس سورۃ میں ایک مجموعہ افراد کا ذکر کرتے ہوئے پیشگوئی کی گئی ہے کہ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاعِمَةٌ لِسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ۔ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی کی خبر نہیں دی بلکہ جماعت مسلمہ کی ترقی کی بھی خبر دی ہے۔اسی طرح وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ میں اجتماعی طور پر کفار کے متعلق خبر دی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں ناکام رہیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ جس طرح سورۃ الاعلیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اور آخری زمانہ یعنی ہر دو زمانوں کے متعلق ہے اور یہ سورۃ بھی ان دونوں زمانوں کے حالات بیان کرتی ہے۔چونکہ ان دونوں سورتوں کا مضمون ایسا ہے جو شروع زمانہ اسلام سے آخر زمانہ اسلام تک تعلق رکھنے والا تھا۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ جمعہ اور عیدین میں بالالتزام اِن دونوں سورتوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔جمعہ اور عیدین جو اجتماع کے مواقع ہیں اُن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اِن دونوں سورتوں کا تلاوت کرنا بتاتا ہے کہ جب بھی مسلمان اجتماعی طاقت پکڑنے کی طرف متوجہ ہوں گے اور جب بھی خدا تعالیٰ مسلمانوں کی کمزوری کو ڈور کرنے لگے گا اُس وقت یہ دونوں سورتیں اپنے مطالب کے لحاظ سے ظاہر ہو جائیں گی۔سورۃ الاعلیٰ میں یہ بات واضح کی گئی تھی کہ مسلمانوں کی ترقی اسی وقت ہو گی جب قرآن کریم کے معارف اور اُس کے علوم کو ظاہر کرنے والا مامور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے 704