نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 703 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 703

مسند احمد بن حنبل اور مسلم اور سنن نسائی اور سنن ابوداؤد اور ابن ماجہ میں نعمان بن بشیر روایت آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ اور عیدین کی پہلی رکعت میں سبح اسم ريك الأغلى اور دوسری میں سورۃ الغاشیہ پڑھا کرتے تھے بلکہ اگر دونوں نمازیں جمع ہو جاتی تھیں یعنی کبھی عید الفطر اور جمعہ اکٹھے ہو جاتے یا عید الضحی اور جمعہ اکٹھے ہو جاتے تب بھی آپ دونوں نمازوں میں یہ دونوں سورتیں پڑھا کرتے تھے۔اس سورۃ اور سورۃ الاعلیٰ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جمعہ اور عیدین میں پڑھنا اور بالالتزام پڑھنا اور اتنا تعہد کرنا کہ اگر دونوں نمازیں جمع ہو جائیں تب بھی آپ دونوں میں التزاما یہ سورتیں پڑھا کرتے تھے بتاتا ہے کہ اسلام کی اجتماعی زندگی کے ساتھ یہ دونوں سورتیں گہرا تعلق رکھتی ہیں۔سورۃ الاعلیٰ کا جوڑ تو نظر ہی آتا ہے کہ اس میں قرآن کریم کے قول فصل ہونے کے لحاظ سے بحث کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ کس طرح اسلام اپنے انتہائی کمال کو پہنچ جائے گا۔اس ضمن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسلام کو ایسے خادم مل جائیں گے جو قرآن کریم کے حافظ ہوں گے۔اسی طرح اس کی حفاظت کے متعلق اور کئی قسم کی غیر معمولی تحریکات دنیا میں جاری ہوجائیں گی۔گویا سورۃ الاعلی اسلامی ترقی اور دین اسلام کی اشاعت، اُس کے ماننے والوں کی زیادتی اور مسلمانوں کے غلبہ پر دلالت کرتی تھی۔اور سورۃ الغاشیہ میں گو وہ مضمون نہیں مگر اس میں بھی یہ بات ضرور پائی جاتی ہے کہ کافروں کے اسلام کے خلاف اُٹھنے اور زور لگانے کا اس میں اشارہ کیا گیا ہے اور مومنوں کا ان کے مقابلہ میں کامیاب ہونا اشارۃ بیان کیا گیا ہے۔مگر چونکہ ابھی اسلام کے ابتدائی ایام تھے اور خواہ مخواہ کفار کو بھڑکانا مقصود نہیں تھا اس لئے جنگ اور مقابلے کا اللہ تعالیٰ صریح الفاظ میں ذکر نہیں کرتا بلکہ ایسے الفاظ میں ذکر کرتا ہے جو ٹھیس لگانے والے نہ ہوں۔جس طرح دشمن نے کھلے طور پر مخالفت کا اظہار نہیں کیا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی کھلے طور پر یہ ذکر نہیں کیا کہ مسلمان لڑیں گے اور کفار کو مغلوب کریں گے صرف نتیجہ کا ذکر کر 703