نُورِ ہدایت — Page 664
پس سوی کے معنے یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں اعتدال اور ترقی کا ماڈہ پیدا کیا ہے۔ہر قسم کی قابلیتیں اس میں رکھ دی ہیں اور ہر قسم کی ضروریات اس کے لئے مہیا کردی ہیں اور یہی بے عیب پیدا کرنے کے معنے ہیں۔ورنہ بے عیب پیدا کرنے کے یہ معنے تو نہیں ہو سکتے کہ اس کے اندر خدائی پائی جاتی ہے۔اس کے معنی یہی ہیں کہ انسانی پیدائش میں کوئی چیز ایسی نہیں جس کے متعلق یہ کہا جاسکے کہ وہ لغو اور فضول ہے۔مثلاً آنکھ ہے۔یہ بالکل بیکار ہوتی اگر اُس کے مقابل میں سورج کی روشنی پیدا نہ کی جاتی۔مگر اللہ تعالیٰ کا احسان دیکھو کہ اُس نے ایک طرف آنکھ پیدا کی تو دوسری طرف سورج کی روشنی پیدا کر دی تا کہ آنکھ کام کر سکے۔اسی طرح تمام جسم انسانی کو دیکھ لو ہر چیز کسی نہ کسی غرض کے لئے پیدا کی گئی ہے۔اور اُس کا ضرور کوئی نہ کوئی فائدہ ہے۔صرف دو چیزیں انسانی جسم میں ایسی ہیں جن کے متعلق ڈاکٹروں کا یہ خیال تھا کہ ان کی کوئی غرض نہیں یہ یونہی پیدا کر دی گئی ہیں۔ایک تو کان کی لو کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ یہ کسی خاص غرض کے لئے نہیں ہے۔دوسرے معاء اعور یعنی اپنڈکس کے متعلق یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جسم انسان میں اس کا کوئی خاص کام نہیں۔بعض اور چیزیں بھی تھیں جن کے متعلق پہلے زمانہ میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بے فائدہ پیدا کی گئی ہیں لیکن آہستہ آہستہ ان کی ضرورت کو اطباء نے ظاہر کر دیا۔صرف یہ دو چیز میں رہ گئی تھیں مگر آج سے چالیس پچاس سال پہلے معاء اعور کی ضرورت کو بھی ڈاکٹروں نے محسوس کر لیا۔چنانچہ فرانس کے ایک ڈاکٹر نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ آیا معاء اعور کا کوئی فائدہ ہے یا نہیں بارہ بندر لئے اور اُن میں سے چھ کے اپنڈکس اپریشن کے ذریعہ کاٹ دیئے اور چھ کے رہنے دیئے۔اس کے بعد اُس نے تمام بندروں کی یکساں پرورش شروع کر دی اور یہ غور کرنا شروع کیا کہ آیا دونوں میں کسی قسم کا کوئی فرق پیدا ہوتا ہے یا نہیں۔کچھ عرصہ کے بعد اُس نے دیکھا کہ جن بندروں کے اپنڈکس کاٹ دیئے گئے تھے اُن کی قوت مقاومت کم ہو گئی ہے۔وہ بیماریوں کا جلد شکار ہو جاتے ہیں اور غذا اُن کے جسم کو لگتی نہیں۔لیکن دوسرے بندر جن کا اپریشن نہیں کیا گیا تھا وہ 664