نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 663 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 663

ہے اُس کی تسبیح کر۔اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے ادنی نام بھی ہیں۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام صفات اس وقت اعلیٰ رنگ میں ظاہر ہورہی ہیں۔تیرا کام یہ ہے کہ ہر صفت کا جو اعلیٰ ظہور ہے اُسے پیش کر اور ہر مصیبت پر جو اعتراض پڑتا ہوا سے دُور کرتا کہ تمام اعتراضات مٹ جائیں اور خدا تعالیٰ کا جلال اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا پر ظاہر ہو۔اسبح اسم ربك الأغلى کے متعلق یہ امر بھی یاد رکھنا چاہئے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا طریق یہ تھا کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے جب وہ رکوع میں جاتے تو کہا کرتے اللهُمَّ لَكَ ركعت اور جب سجدہ میں جاتے تو کہتے اللهُمَّ لَكَ سجدت مگر جب یہ آیت نازل ہوئی کہ سَبْحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلى تو رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اِجْعَلُوهَا فِي سُجُودِ كُمْ يتسبيح سجدہ کے وقت کیا کرو۔اور جب یہ آیت نازل ہوئی کہ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ (الحاقه53) تو آپ نے فرمایا اجعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ يتسبیح رکوع کے وقت کیا کرو۔چنانچہ یہ جو ہم رکوع میں سُبْحانَ رَبِّي العَظِیم اور سجدہ میں سُبحان ربی الاعلی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے اسی حکم کے نتیجہ میں کہتے ہیں کہ فسيخ باشیم رَبَّكَ الْعَظِيم اور سَبْحِ اسْمَ رَبِّكَ الأعلى۔گویا خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ رکوع میں کس طرح تسبیح کرنی چاہئے اور سجدہ میں کس طرح تسبیح کرنی چاہئے۔ورنہ اس سے پہلے مسلمان رکوع میں اللهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ اور سجدہ میں اللهُمَّ لَكَ سَجَدُتُ کہا کرتے تھے۔الذي خلق فسوى م خدا تعالیٰ نے پیدا کیا اور اُسے درست اور بے عیب بنایا۔اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو ایسے رنگ میں پیدا کیا ہے کہ اُس کے اندر تمام ضروری طاقتیں موجود ہیں اور ترقی کے مادے اُس میں پوری طرح پائے جاتے ہیں گویا وہ سب صفات جو انسانی ترقی کے لئے ضروری تھیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے مہیا فرما دی ہیں۔اسی بناء پر بائبل میں آتا ہے :۔خدا نے انسان کو اپنی صورت میں پیدا کیا۔“ ( پیدائش 1/27) 663