نُورِ ہدایت — Page 665
اسی طرح مضبوط رہے ہیں جس طرح پہلے تھے۔اس سے ثابت ہو گیا کہ اپنڈکس جس کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ شائد اس کا کوئی فائدہ نہیں، یہ ایک زائد آنت ہے جو جسم انسان میں پیدا ہو گئی ہے، اس کا بھی انسانی جسم کی صحت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔اور جن لوگوں کی یہ آنت کاٹ دی جائے اُن کی قوتِ مقاومت کم ہو جاتی ہے۔مگر اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قوت مقاومت دوسروں کے مقابلہ میں کم ہو جاتی ہے بلکہ قومت مقاومت کے کم ہونے کے یہ معنے ہیں کہ جتنی طاقت اس آنت کی موجودگی میں اُس کے اندر پائی جاتی ہوا پریشن کے بعد اتنی طاقت اس کے اندر نہیں رہتی۔ورنہ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص کا اپریشن نہ ہوا ہو اور کسی اور وجہ سے اُس کے اندر مقابلہ کی طاقت کم ہو۔اس صورت میں اُس کا اور اپریشن والے شخص کا مقابلہ نہیں ہو گا بلکہ دیکھا یہ جائے گا کہ اس شخص کے اندر پہلے کتنی طاقت مقابلہ تھی اور اب کتنی ا طاقت مقابلہ رہ گئی ہے۔اِس موازنہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اپریشن سے پہلے انسان کے اندر جتنی تاب مقاومت ہوتی ہے اپریشن کے بعد اتنی طاقت اُس میں نہیں رہتی بلکہ ضرور اُس میں کمی آجاتی ہے۔فرانس کے اس ڈاکٹر نے جو تجربہ کیا اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنڈکس کا انسان کی قوتِ مقاومت اور اُس کی صحت کی بحالی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ممکن ہے آئندہ چل کر اس سے بھی زیادہ واضح طور پر اس کے فوائد ثابت ہو جائیں لیکن بہر حال اس وقت تک کی تحقیق یہی ثابت کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔دوسری چیز جسے بیکار سمجھا جاتا تھا کان کی لو ہے۔مگر اب معلوم ہوا ہے کہ یہ بھی بیکار نہیں بلکہ آواز کے سُننے میں یہ ایک لطیف قسم کا اثر رکھتی ہے جس طرح بچے پتنگ کے ساتھ ایک چھوٹی سی دھجی یا پتلا سا کاغذ باندھ دیتے ہیں جو بظاہر زائد چیز نظر آتی ہے مگر پتنگ کے اُڑانے میں وہ بہت کام آتی ہے۔اسی طرح کان کی کو علاوہ اس کے کہ کان کو خوبصورت بنادیتی ہے آواز کے ساتھ بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔بعض حصے جسم انسانی میں ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے خوبصورتی کے لئے پیدا کئے ہیں۔انہی میں سے ایک کان کی کو بھی ہے۔اگر کسی کے کان کی کو کاٹ دی جائے تو بالکل 665