نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 590 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 590

پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظمیں اچھی آواز میں تیار کریں جو دل پر گہرا اثر کرنے والی ہیں۔جب آپ وہ نظمیں ان کو سنانا شروع کریں گے تو آہستہ آہستہ ان کی لذتوں کے معیار بدلنے شروع ہوں گے۔ایک چیز داخل ہوگی دوسری کو دھکیل کر باہر کر رہی ہوگی۔یہ ایک دن کا کام نہیں ہے، دو دن کا کام نہیں ہے، یہ تو بڑا لمبا اور صبر آزما کام ہے۔ہمت کے ساتھ اور مستقل مزاجی کے ساتھ انسان اگر ایک پروگرام بنا کر رفتہ رفتہ یہ کام کرنا چاہے تو یقیناً کامیاب ہوگا کیونکہ قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے اور قرآن کریم کا دعویٰ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔آپ Creative Programme یعنی تعمیری پروگرام بنائیں۔یاد رکھیں اگر آپ میں تعمیری پروگرام بنانے کی اہلیت نہیں ہے تو دنیا آپ کی بات نہیں مانے گی۔چنانچہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیم اور ان کے دستور سے جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس عمل میں وہ اس بات کا انتظار نہیں کیا کرتے تھے کہ مقابل کی سوسائٹی پہلے ایمان لائے تو پھر ان کے اندر حسن عمل پیدا کرنے کی کوشش شروع کی جائے۔قرآن کریم میں ایسے جتنے بھی واقعات بیان ہوئے ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ برائیوں کو دور کرنے کی تعلیم وہ پہلے شروع کر دیتے تھے۔۔۔۔انبیاء نے قوم کے عمل کو درست کرنے کے لئے کبھی اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ وہ لوگ ایمان لاتے ہیں یا نہیں۔اس میں ایک گہری حکمت ہے اور وہ حکمت یہ ہے کہ نیکی کی بات دراصل کسی دلیل کو نہیں چاہتی کسی اچھے اور خوبصورت کام کی طرف اگر آپ خوبصورت رنگ میں کسی کو بلاتے ہیں تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم کب تمہیں مانتے ہیں کہ تم ہمیں یہ باتیں کہتے ہو۔اگر کوئی یہ جواب دے تو اس کی بڑی بیوقوفی ہو گی۔آپ کسی بھو کے آدمی کو یہ کہیں کہ میں تمہارے لئے کھا نالا یا ہوں تم کھانا کھالو تو وہ یہ نہیں پوچھے گا کہ میں تو تمہیں مانتا ہی نہیں، میں کیوں کھانا کھالوں۔کوئی آدمی گرمی میں دھوپ میں بیٹھا ہو اور آپ اس سے کہیں کہ اٹھ کر سایہ میں آجاؤ تو وہ آگے سے یہ جواب نہیں دے گا کہ نہیں انہیں ! تم اور فرقہ سے تعلق رکھتے ہو میں اور فرقہ سے تعلق رکھتا ہوں۔اچھی باتوں میں فرقہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔نظریاتی اختلاف الگ ہیں ان کا اپنا مقام ہے اور نیک اعمال کی تعلیم ایک بالکل 590