نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 589 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 589

کو یہ تعلیم نہیں دی کہ وہ کسی موجود چیز کو مٹادے۔ہاں بہتر چیز سے بدلہ دینے کی تعلیم دیتا ہے۔لیکن سارے قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی Annihilism یعنی ملیا میٹ کر دینے کی تعلیم نہیں دی گئی۔یہ کہنا کہ : اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگادو کاخ امراء کے درودیوار ہلا دو ( بال جبریل نظم بعنوان فرمان خدا) قرآن کریم میں ایسی کوئی تعلیم نہیں ملتی۔یہ شاعروں کی دنیا کی باتیں ہے۔قرآن کریم ی تعلیم دیتا ہے کہ اگر تم میں بہتر چیز دینے کی طاقت موجود ہے تو بری چیز کو بہتر چیز سے تبدیل کرو۔اگر تم میں یہ طاقت موجود نہیں ہے تو پھر تمہیں اس بات کا کوئی حق نہیں کہ ایک موجود چیز کو مٹاؤ کیونکہ اس طرح خلا پیدا ہوتا ہے جس کی سارے قرآن میں کوئی تعلیم نہیں ہے۔پس ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا یہاں مطلب یہ بنے گا کہ برائیوں کوحسن سے Replace یعنی بدل دو۔حسن داخل کرتے چلے جاؤ تا کہ برائیاں جگہ چھوڑتی چلی جائیں۔جیسے ایک کمرہ میں زیادہ لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش نہ ہو تو جو لوگ پہلے بیٹھے ہوتے ہیں وہ نئے آنے والوں کے لئے جگہ خالی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہاں بھی اسی قسم کا مضمون ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اپنی طبیعت میں حسن داخل کرتے چلے جاؤ، بدیاں خود بخو دجگہ چھوڑتی چلی جائیں گی اور یہ امر واقعہ ہے کہ اس کے بغیر کبھی دنیا میں کوئی باقی رہنے والی تربیت نہیں ہوسکتی۔جولوگ اس نفسیاتی نکتے کو نہیں سمجھتے وہ ہمیشہ بدیاں دور کرنے میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ جب کسی کو یہ کہا جائے کہ یہ نہ کرو تو سوال یہ ہے کہ کیوں نہ کرے، اس سے بہتر کوئی چیز ملے گی تو نہیں کرے گا اور نہ وہ اپنی ضد پر قائم رہے گا۔فطرت چاہتی ہے کوئی اس کا متبادل ہو، کوئی اس سے بہتر چیز ہو اس لئے میں نے بارہا یہ کہا ہے کہ آپ جب اپنے گھروں کی، اپنے بچوں کی ، اپنی عورتوں کی تربیت کرتے ہیں تو اس بات کو پیش نظر رکھا کریں کہ اگر ان کو میوزک سے ہٹانا ہے یا گندی قسم کے گیتوں سے اور گندے فلمی گانوں سے ہٹانا ہے تو 589