نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 591 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 591

الگ مسئلہ ہے اس لئے اس معاملہ میں انبیاء نے کبھی انتظار نہیں کیا اور اس میں ایک بڑی حکمت یہ تھی کہ ان کا اور سوسائٹی کا فاصلہ زیادہ نہیں ہوا۔اگر آپ اپنے ماحول کو گندہ ہونے دیں اور اجازت دے دیں کہ وہ جو رخ چاہتا ہے اختیار کرلے اور انتظار کریں کہ جب تک وہ قبول نہیں کرتا اس وقت تک آپ نے ان کے اندر حسن پیدا نہیں کرنا تو آپ میں اور اس ماحول میں جتنے فاصلے بڑھتے چلے جائیں گے اتنے آپ کے مسائل بڑھتے چلے جائیں گے۔یہ بے اعتنائی واپس الٹتی ہے اور یہی گندہ ماحول پھر آپ کے گھر کو تباہ کرتا ہے۔یہ ایسی بے اعتنائی نہیں ہے جس کو خدا بخش دے گا بلکہ بے اعتنائی کرنے والی قوم کو اس بے اعتنائی کی سزادی جاتی ہے کیونکہ مخالف معاشرہ بدیوں میں جتنا آگے بڑھتا ہے وہ ساتھ ساتھ آپ سے اپنا ٹیکس وصول کرتا ہے اور آپ کے معیار کو بھی بھینچ کر نیچے لے جارہا ہوتا ہے اس لئے قرآن کریم نے انبیاء کا جو پاک نمونہ محفوظ کیا ہے اس کا یہی مقصد تھا کہ جو قو میں بھی داعی الی اللہ بننا چاہتی ہیں وہ اپنے معاشرہ کی درستی کا انتظام اس بات کا انتظار کئے بغیر شروع کر دیں کہ وہ لوگ ایمان لاتے ہیں یا نہیں۔یہ ساری باتیں وہ ہیں جن کے نتیجہ میں انسان کو دکھ ملتے ہیں۔قرآن کریم نے عجیب نتیجہ نکالا ہے۔لیکن قرآن کریم جب یہ نتیجہ نکالتا ہے اور اس طرف توجہ دلاتا ہے تو پہلے اس طریق کار کے عظیم الشان پھل کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔فرماتا ہے کہ اگر تم اس طریق پر کار بند ہو جاؤ ، اس طریق پر گامزن ہو جاؤ تو ہم تمہیں ایک ضمانت دیتے ہیں اور وہ یہ ہے فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِی حَمیمہ کہ وہ جو پہلے تمہاری جان کا دشمن تھا وہ تمہارا جاں نثار دوست بن جائے گا اور یہی وہ اعلیٰ مقصود ہے جس کو ایک داعی الی اللہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔یہی اس کی کامیابی کا نشان یا تمغہ ہے جو اسے عطا ہوگا۔نفرتیں محبتوں میں تبدیل کی جائیں گی، جان کے دشمن جانثار دوستوں میں تبدیل کئے جائیں گے اور یہ ساتھ ہی ایک کسوٹی بھی ہے یعنی اگر تبلیغ کے نتیجہ میں یہ واقعات رونما نہیں ہوتے تو اس تبلیغ میں کوئی خرابی ہے۔اگر کسی تبلیغ کے نتیجہ میں ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں تو یقینا یہی وہ صحیح طریق ہے جس پر تبلیغ کی جارہی ہے۔لیکن ساتھ ہی تو جہ دلائی کہ یہ ایسا آسان کام نہیں ہے کہ ادھر تم 591