نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 245 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 245

(2) وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ میں کسی قوم یا مذہب کا مخصوص ذکر نہیں بلکہ ہر قوم وملت کے الہام کی تصدیق کی ہے۔بعض مسلمان اس غلطی میں مبتلا ہیں کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی کا نزول کس طرح ہو سکتا ہے؟ لیکن یہ وہم اُن کا قرآنی تعلیم کے خلاف ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف طور پر مسلمانوں کی نسبت فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُوْنَ (حم سجدة 31) یعنی جو مسلمان یہ اعلان کر کے کہ اللہ ہمارا رب ہے تمام مصائب کو برداشت کریں گے اور استقامت دکھائیں گے خدا تعالیٰ کے فرشتے ان پر یہ کہتے ہوئے نازل ہوں گے کہ نہ آئندہ کا خوف کرو اور نہ سابق پر غم کرو اور اس جنت کی بشارت سنو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے۔وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُوْلَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم مِنَ النَّبينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رفِيقًا (النساء (70) یعنی جو لوگ اللہ اور رسول ( یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کریں گے وہ اس گروہ میں شامل ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے۔یعنی نبیوں صدیقوں شہداء اور صالحین کے گروہ میں اور یہ گروہ ساتھیوں کے لحاظ سے سب سے بہتر گروہ ہے۔پس جبکہ اس اُمت سے یہ وعدہ ہے کہ وہ نبیوں اور صدیقوں اور شہداء والے انعام پائے گی تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس امت میں وحی الہی کا دروازہ بند ہو۔اصل انعام جو نبیوں اور صدیقوں اور شہداء کو ملتا ہے وہ تو خدا تعالیٰ کی وحی ہی ہے۔اس آیت میں اس پیشگوئی کی طرف بھی اشارہ ہے جو سورۃ جمعہ میں کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجمعة 4-3) یعنی وہ خدا ہی ہے جس نے امتیوں میں انہی 245