نُورِ ہدایت — Page 246
کی قوم کا ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سُناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے گو پہلے وہ پھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔اور اسی طرح وہ ان کے سوا ایک اور قوم کو سکھائے گا جو اب تک انہیں نہیں ملے۔اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو احادیث میں آتا ہے کہ صحابہ نے پوچھا وہ کون لوگ ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے جو ہم سے نہیں ملے؟ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا لو كان الدين عِنْدَ القُرَيَا لَذَهَبَ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ أَوْ ابناء فَارِسَ حَتى يَتَنَاوَلَة (مسند احمد بن حنبل جلد دوم صفحه 309) که اگر ایمان ثریا پر بھی چڑھ جائے تو فارس سے ایک شخص یا فرما یا ابناء فارس میں سے ایک شخص آسمان پر جا کر دین کو واپس لے آئے گا۔اس روایت سے اور بعض اور روایات سے کہ جن میں رجُل کی جگہ رجال کا لفظ ہے (بخاری جلد سوم کتاب التفسیر معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانہ میں ایمان دنیا سے اُٹھ جائے گا اور ایک شخص بنو فارس سے جس کے ساتھ اور بھی بعض ابناء فارس بطور مد گار ہوں گے ایمان کو واپس لائے گا اور اس کی معرفت اللہ تعالیٰ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی کام کرنے کا موقع دے گا کہ جو صحابہ کے زمانہ میں آپ نے کیا۔یعنی وہ آپ کا بروز ہونے کی حیثیت سے خدا تعالیٰ کی وحی سے اصلاح امت کرے گا۔غرض اس آیت کے سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے و بالا خِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ کے معنے یہ ہیں کہ جس طرح متقی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی پر ایمان رکھتا ہے اور آپ سے پہلی وحی پر ایمان رکھتا ہے اسی طرح وہ بعد میں آنے والی وحی پر بھی یقین رکھتا ہے۔شاید کسی کو یہ شبہ گزرے کہ پہلی دونوں وحیوں کی نسبت تو ایمان کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن آخرۃ کی نسبت یقین کا لفظ استعمال ہوا ہے۔پس کیوں نہ سمجھا جائے کہ اس جگہ وحی کی بجائے کسی اور چیز کا ذکر ہے ورنہ اس کے لئے بھی ایمان کا لفظ استعمال ہوتا ؟ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ ایمان کا لفظ عام طور پر اُس شے کے متعلق استعمال ہوتا ہے جس کا 246