نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 203 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 203

دل کی خرابی کا نشان ہے۔سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ ) برابر ہو رہا ہے ان کے نزدیک خواہ ڈرایا ونے یا نہ ڈرایا تونے) یعنی تیرے ڈرانے کی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔یہ دوسرا فعل کافر انسان کا ہے کہ اس نے اپنی عقل و فکر سے اتنا کام بھی نہیں لیا۔اگر اس میں یہ خوبی نہ تھی کہ ایمان کے لئے خود فکر کرتا ، سوچتا، عقل سے آپ کام لیتا تو کم سے کم رسول کریم کے بیانات کو ہی سنتا کہ کفر کا نتیجہ کیسا برا اور اس کفر کا انجام کیسا بُرا ہے۔لا يُؤْمِنُونَ۔نہیں مانتے۔یہ تیسرا فعل کا فرانسان کا ہے۔اوّل تو ضرور تھا کہ قلب سے کام لیتا جو روحانی قوت کا مرکز ہے۔اگر اس موقع کو ضائع کر چکا تھا تو مناسب یہ تھا کہ نبی کریم کی باتیں سنتا۔پس کان ہی اس کے لئے ذریعہ ہو جاتے کہ ایماندار بن جاتا۔اور یہ دوسرا موقع حصول ایمان کا تھا۔پھر اگر یہ بھی کھو بیٹھا تو مناسب تھا کہ پگے ایمانداروں کے چال چلن کو دیکھتا جو ایسے موقع پر اسی کے شہر میں موجود تھے اور یہ بات اس کا فر کو آنکھ سے حال ہوسکتی تھی مگر اس نے یہ تیسرا موقع بھی ضائع کر دیا۔غور کرو اگر کوئی دانا حا کم کسی کو مختلف عہدے سپر د کرے لیکن وہ عہدہ دار کہیں بھی اپنی طاقت سے کام نہ لے تو کیا حاکم کو مناسب نہیں کہ ایسے نکتے شخص کو عہدہ سے اس وقت تک معزول کر دے جب تک وہ خاص تبدیلی نہ کرے۔آب اسی ترتیب سے دوسری آیت پر غور کرو۔خَتَمَ اللهُ عَلى قُلُوبِهم - مُہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پر۔اس لئے کہ انہوں نے اپنے دل کا ستیا ناس خود کیا اور کفر کیا۔وَ عَلَى سَمْعِهِمْ۔اور ان کے کانوں پر۔یہ دوسری سزا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے کانوں سے کام نہ لیا۔وَ عَلى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ۔یہ تیسری سزا ہے کہ ان کی آنکھوں پر پٹی ہے کیونکہ انہوں نے آنکھ سے بھی کام نہ لیا۔(ماخوذ از حقائق الفرقان ) 203