نُورِ ہدایت — Page 202
خَتَمَ اللهُ عَلى قُلُوم - ختم کہتے ہیں چھاپے کے ساتھ چھا پہ لگانے کو اور اس اثر کو جو کہ چھا پہ لگانے سے حاصل ہوتا ہے اور حفاظت اور آخر تک پہنچنے کو۔اور قُلُوب قلب کی جمع ہے اور قلب کہتے ہیں دل کو۔اور دل کو قلب اس لئے کہتے ہیں کہ خون کو قلب کرتا ہے۔کیونکہ وہ ایک جانب سے لیتا ہے اور دوسری طرف سے بدن کی طرف بھیجتا ہے یا اس کے تقلب کے لئے کیونکہ وہ قرار نہیں پکڑتا۔اور اسی وجہ سے آنحضرت نے فرمایا ہے الْقَلْبُ بَيْنَ إصْبَعَى الرَّحْمنِ يُقلِبُهَا كَيْفَ شَاء ( دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہے اُلٹاتا ہے اس کو جیسا کہ چاہتا ہے ) رسالہ تعلیم الاسلام ماہ جنوری 1907ء) خَتَمَ اللهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ هم کا لفظ یہاں تین بار آیا ہے اور یہ ضمیر جمع مذکر غائب کی ہے جس کے معنے ہیں وہ لوگ۔پس معلوم ہوا کہ یہ ذکر ایسے لوگوں کا ہے جن کا پہلے کوئی ذکر آ چکا ہے۔اس لئے ھم کے معنی سمجھنے کے لئے ضرور ہوا کہ ماقبل کو ہم دیکھ لیں۔تو جب ہم نے ماقبل کو دیکھا تو یہ آیت موجود ہے۔اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمُ انْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ اِس بیان سے اتنا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے منکر لوگ ہیں جن کے لئے ختم اللہ کا ارشاد ہے۔عام نہیں۔پھر قرآن کریم نے صاف صاف فرمایا ہے جہاں ارشاد کیا ہے بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ (النساء 156) یعنی ان کے کفر کے سبب اُن کے دلوں پر مہر لگا دی۔اس سے معلوم ہوا کہ مہر کا باعث کفر ہے انسان کفر کو چھوڑے تو مہر ٹوٹ جاتی ہے۔اسی طرح فرمایا: كَذلِكَ يَطْبَعُ اللهُ عَلى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَيْرٍ جَبَّارٍ (المؤمن 36) پس تفصیل دونوں آیتوں کی یہ ہے۔اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا ( تحقیق ان لوگوں نے کفر کیا) یاد رکھو کہ کفر کرنا کا فرانسان کا اپنا فعل ہے جیسے قرآن کریم نے بتایا اور یہ پہلی بات ہے جو کافر سے سرزد ہوئی ہے۔اور یہ کفر خدا داد روحانی قوتوں، طاقتوں سے کام نہ لینے سے شروع ہوا جو 202