نُورِ ہدایت — Page 12
تقریر ختم ہوئی تو نماز مغرب ادا کی گئی۔امامت حضرت صاحب نے خود فرمائی۔اور پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ الاخلاص اور سورۃ الفلق تلاوت فرمائی۔اور دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحۃ کے بعد سورۃ الاخلاص اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" پڑھی۔اس کے بعد حضور نے بیعت لی۔اس روز ہم دو آدمیوں نے بیعت کی تھی۔“ (سیرت المہدی روایت نمبر 1108) (6) - قُلْ هُوَ اللهُ أَحَد اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ رض حضرت بابو غلام محمد صاحب بیان کرتے ہیں۔مولوی عبد الکریم صاحب سر درد اور بخار کے سبب سے صاحب فراش ہو گئے۔ادھر شاہ دین سٹیشن ماسٹر بھی بخار میں مبتلا تھے۔حضور مجلس میں نماز کے لئے تشریف لائے۔کچھ دیر بیٹھنے کے بعد آپ نے فرمایا کہ مولوی صاحب کا کیا حال ہے؟ ایک آدمی نے اٹھ کر مولوی صاحب سے دریافت کیا۔آپ نے جواب دیا دس دے کہ بخار بھی ہے اور سر درد بھی ہے۔پھر انتظار کے بعد حضور نے فرمایا کہ پوچھو نماز پڑھائیں گے؟ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور مجھ سے تو اٹھا بھی نہیں جاتا۔اب ظہر کو دیر ہورہی تھی کہ حضور (سے) کہنے لگے۔حضور خواجہ صاحب ، محمد علی اور حکیم فضل دین صاحب موجود ہیں کیا وہ نماز پڑھا دیں؟ اکثر کا نام لیا گیا مگر حضور خاموش بیٹھے رہے۔کچھ انتظار کے بعد حضور خود مصلیٰ پر تشریف فرما ہوئے اور ظہر پڑھائی۔ہم سب نے حضور کی اقتدا میں نماز ادا کی۔بہت ہی ہلکی نماز تھی۔سجدے بھی ہلکے تھے۔اسی طرح عصر کے وقت بھی حضور خود کھڑے ہوئے اور عصر بھی حضور نے پڑھائی۔مغرب کی نماز بھی حضور نے ہی پڑھائی۔دونوں رکعتوں میں حضور نے قُلْ هُوَ الله احد اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ يَا قُل اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ پڑھی تھیں حتی کہ عشاء بھی انہی ہلکی ہلکی سورتوں کے ساتھ پڑھائی۔“ (رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) جلد 9 صفحہ 80، 81 روایت حضرت با بو غلام محمد صاحب) (7)۔پہلی رکعت میں آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں سورۃ الاخلاص رض حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ 1895ء میں مجھے تمام ماہ رمضان قادیان میں گزارنے کا اتفاق ہوا اور میں نے تمام مہینہ حضرت صاحب کے پیچھے نماز تہجد یعنی تراویح ادا کی۔آپ کی یہ عادت تھی کہ وتر اول شب میں پڑھ لیتے 12