نُورِ ہدایت — Page 190
* میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر دس دن بھی نماز کوسنوار کر پڑھیں تو تنویر قلب ہو جاتی ہے مگر یہاں تو پچاس پچاس برس تک نماز پڑھنے والے دیکھے گئے ہیں کہ بدستور و بدنیا اور سفلی زندگی میں نگونسار ہیں اور انہیں نہیں معلوم کہ وہ نمازوں میں کیا پڑھتے ہیں اور استغفار کیا چیز ہے؟۔۔۔یاد رکھو رسم اور چیز ہے اور صلوٰۃ اور چیز۔صلوۃ ایسی چیز ہے کہ اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کا کوئی قریب ذریعہ نہیں۔یہ قرب کی کنجی ہے۔اسی سے کشوف ہوتے ہیں۔اسی سے الہامات اور مکالمات ہوتے ہیں۔یہ دُعاؤں کے قبول ہونے کا ایک ذریعہ ہے لیکن اگر کوئی اس کو اچھی طرح سے سمجھ کر ادا نہیں کرتا تو وہ رسم اور عادت کا پابند ہے۔نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب رکھا ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت اور تاکید ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں اور ایک کے انوار دوسرے میں سرایت کرسکیں۔وہ تمیز جس سے خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے۔یہ خوب یا درکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے کہ وہ دوسرے کے انوار کو جذب کرتا ہے۔پھر اسی وحدت کے لئے حکم ہے کہ روزانہ نماز میں محلہ کی مسجد میں اور ہفتہ کے بعد شہر کی مسجد میں اور پھر سال کے بعد عید گاہ میں جمع ہوں اور گل زمین کے مسلمان سال میں ایک مرتبہ سبیت اللہ میں اکٹھے ہوں۔ان تمام احکام کی غرض وہی وحدت ہے۔لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 281 282) متقی کا لفظ باب افتعال سے آتا ہے اور یہ باب تصنع کے لئے آتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ متقی کو بڑا مجاہدہ اور کوشش کرنی پڑتی ہے اور اس حالت میں وہ نفس لوامہ کے نیچے ہوتا ہے اور جب حیوانی زندگی بسر کرتا ہے اُس وقت اٹارہ کے نیچے ہوتا ہے اور مجاہدہ کی حالت سے نکل کر جب غالب آجاتا ہے تو مطمئنہ کی حالت میں ہوتا ہے۔متقی نفس امارہ کی حالت سے نکل کر آتا ہے اور تو امہ کے نیچے ہوتا ہے اسی لئے منتقی کی شان میں آیا ہے کہ وہ نماز کو کھڑی کرتے ہیں گویا اس میں بھی ایک قسم کی لڑائی ہی کی حالت ہوتی ہے وساوس اور اوہام 190