نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 189 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 189

دعا کی تھی مگر اُس کا اثر نہ ہوا۔اور اس طرح پر وہ خدا تعالیٰ سے بدظنی کرتے ہیں اور مایوس ہو کر بلاک ہو جاتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ جب تک دُعا کے لوازم ساتھ نہ ہوں وہ دُعا کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتی۔دُعا کےلوازم میں سے یہ ہے کہ دل پگھل جاوے اور روح پانی کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرے اور ایک کرب اور اضطراب اس میں پیدا ہو اور ساتھ ہی انسان بے صبر اور جلد باز نہ ہو بلکہ صبر اور استقامت کے ساتھ دُعا میں لگا رہے پھر توقع کی جاتی ہے کہ وہ دُعا قبول ہوگی۔( بدر جلد 6 نمبر 1-2 مؤرخہ 10 جنوری 1907 صفحہ 12) نماز اس وقت حقیقی نماز کہلاتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ سے سچا اور پاک تعلق ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اطاعت میں اس حد تک فنا ہو اور یہاں تک دین کو دنیا پر مقدم کرلے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان تک دے دینے اور مرنے کے لئے تیار ہو جائے جب یہ حالت انسان میں پیدا ہو جائے اس وقت کہا جائے گا کہ اس کی نما زنماز ہے مگر جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا نہیں ہوتی اور سچا اخلاص اور وفاداری کا نمونہ نہیں دکھا تا اُس وقت تک اس کی نمازیں اور دوسرے اعمال بے اثر ہیں۔الحکم جلد 8 نمبر 1 مورخہ 10 /جنوری 1904 ، صفحہ 3) جب تک انسان کامل طور پر توحید پر کار بند نہیں ہوتا۔اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی۔۔۔۔نماز کی لذت اور سرور اسے حاصل نہیں ہوسکتا۔مدار اسی بات پر ہے کہ جب تک بڑے ارادے ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں انانیت اور شیخی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا اور عبودیت کاملہ کے سکھانے کے لئے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔میں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کاربند ہو جاؤ اور ایسے کاربند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح کے ارادے اور جذ بے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں۔الحکم جلد 3 نمبر 13 مورخہ 12 /اپریل 1899 ، صفحہ 7) 189