نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 191 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 191

آ کر حیران کرتے ہیں مگر وہ گھبراتا نہیں اور یہ وساوس اُس کو درماندہ نہیں کر سکتے۔وہ بار بار خدا تعالیٰ کی استعانت چاہتا ہے اور خدا کے حضور چلاتا اور روتا ہے یہاں تک کہ غالب آ جاتا ہے ایسا ہی مال کے خرچ کرنے میں بھی شیطان اس کو روکتا ہے اور اسراف اور انفاق فی سبیل اللہ کو یکساں دکھاتا ہے حالانکہ ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اسراف کرنے والا اپنے مال کو ضائع کرتا ہے مگر فی سبیل اللہ خرچ کرنے والا اس کو پھر پاتا ہے اور خرچ سے زیادہ پاتا ہے اس لئے ہی مِمَّا رَزَقُهُمْ يُنْفِقُونَ فرمایا ہے۔الحکم جلد 5 نمبر 30 مورخہ 17 /اگست 1901، صفحہ 2) دولت مند اور متمول لوگ دین کی خدمت اچھی طرح کر سکتے ہیں اسی لئے خدا تعالیٰ نے ممَّا رَزَقُهُم يُنفِقُونَ متقیوں کی صفت کا ایک جز وقرار دیا ہے۔یہاں مال کی کوئی خصوصیت نہیں ہے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے کسی کو دیا ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔مقصود اس سے یہ ہے کہ انسان اپنے بنی نوع کا ہمدرد اور معاون بنے۔اللہ تعالیٰ کی شریعت کا انحصار دو ہی باتوں پر ہے۔تعظیم لامر اللہ اور شفقت علی خلق الله - پس مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ میں شفقت علی خلق اللہ کی تعلیم ہے۔وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ یعنی متقی وہ ہوتے ہیں جو پہلے نازل شدہ کتب پر اور تجھ پر جو کتاب نازل ہوئی اس پر ( ایمان لاتے ) اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔یہ امر بھی تکلف سے خالی نہیں۔ابھی تک ایمان ایک محجوبیت کے رنگ میں ہے۔متقی کی آنکھیں معرفت اور بصیرت کی نہیں۔اُس نے تقویٰ سے شیطان کا مقابلہ کر کے ابھی ایک بات کو مان لیا ہے۔یہی حال اس وقت ہماری جماعت کا ہے۔انہوں نے بھی تقویٰ سے مانا تو ہے اور ابھی وہ نہیں جانتے کہ یہ جماعت کہاں تک نشو ونما الہی ہاتھوں سے پانے والی ہے۔سو یہ ایک ایمان ہے جو بالآخر فائدہ رساں ہوگا۔191