نُورِ ہدایت — Page 108
(7) الشفاء - یہ نام حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ فاتحہ ہر بیماری سے شفادیتی ہے۔(8) الرقیه۔یعنی دم کرنے والی سورۃ۔یہ نام بھی حضرت ابوسعید خدری کی روایت مذکورہ مسند احمد بن حنبل و بخاری میں درج ہے۔ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ کسی کو سانپ نے ڈس لیا تھا میں نے اس پر سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا اور اسے شفا ہوگئی اس پر آپ نے فرمایا۔مَا يُدْرِيكَ أَنَّهَارُقْيَةٌ تم کو کس طرح معلوم ہوا کہ یہ دم کرنے والی سورۃ ہے۔اس صحابی نے جواب دیا۔یا رسول اللہ بس میرے دل میں ہی یہ بات آ گئی۔(9) سُورَةُ الكنز - حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے جو احسان فرما کر مجھے انعام دیتے ہیں ان میں سے ایک فاتحۃ الکتاب بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا کہ یہ میرے عرش کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ان کے علاوہ اور نام بھی اس سورۃ کے صحابہ سے مروی ہیں۔امام سیوطی نے ان کی تعداد پچیس تک لکھی ہے۔فاتحہ نام جو اس سورۃ کا بیان ہوا ہے اس کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ یہ نام پیشگوئی کے طور پر پہلی کتب میں بھی آیا ہے۔چنانچہ مکاشفات باب 10 آیت 2 میں لکھا ہے۔اور اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کتاب کھلی ہوتی تھی اور اس نے اپنا داہناں پاؤں سمندر پر اور بایاں خشکی پر دھرا اور بڑی آواز سے جیسے ببر گرجتا ہے پکارا۔اور جب اس نے پکا را تب بادل نے گرجنے کی اپنی سات آواز میں دیں۔“ مترجم نے پیشگوئی کی اصل حقیقت سے نا آشنا ہونے کے باعث عبرانی لفظ ” فتوحہ کا ترجمہ کھلی ہوئی کتاب کیا ہے حالانکہ فتوحہ یعنی فاتحہ سورۃ کا نام بتایا گیا تھا۔حمد ان ناموں سے سورۃ فاتحہ کے وسیع مطالب پر روشنی پڑتی ہے یہ 9 نام در حقیقت دس مضمون ہیں جو سورۃ فاتحہ بیان کرتی ہے۔وہ فاتحۃ الکتاب ہے۔یعنی قرآن کریم میں سب سے پہلے اس کے رکھنے کا حکم ہے دوسرے وہ مطالب قرآنی کے لیے بمنزلہ ایک کلید کے ہے 108