نُورِ ہدایت — Page 109
کہ اس کے ذریعہ سے قرآن کریم کے مطالب کھلتے ہیں۔پھر سورۃ فاتحہ سورۃ الحمد ہے یعنی اس سورۃ نے انسان اور بندہ کے تعلقات پر اور انسانی پیدائش پر اس رنگ میں روشنی ڈالی ہے کہ اس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ انسانی پیدائش اعلی ترقیات کے لئے ہے اور یہ کہ خدا تعالی کا تعلق بندوں سے رحم اور فضل کی بنیادوں پر قائم ہے۔پھر وہ الصلوۃ ہے یعنی کامل دعا اس میں سکھائی گئی ہے جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔اور وہ اُٹھم الکتاب ہے اس میں وہ تمام علوم جن کے ذریعہ سے دوسروں کو خطاب کیا جاتا ہے بیان کر دئے گئے ہیں اور یہ بھی کہ وہ کتاب کریم یعنی قرآن مجید کے لئے بمنزلہ ماں کے ہے یعنی قرآن کریم کے نزول کا موجب وہ دعائیں ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں اور جو دردمند دلوں سے اٹھ کر عرش عظیم سے قرآن کریم کو لائی ہیں اور وہ اُٹھ القرآن ہے اس میں وہ تمام علوم جو انسان کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں بیان کر دیئے گئے ہیں۔اور وہ اسبع المثانی ہے یعنی گو صرف سات آیتیں اس میں ہیں لیکن ہر ضرورت ان سے پوری ہو جاتی ہے۔روحانیت کا کوئی سوال ہو کسی نہ کسی آیت سے اس پر روشنی پائی جائے گی۔گویا علمی سوالوں کے حل کرتے وقت بار بار حوالہ کے طور پر اس کی سات آیتیں دہرائی جائیں گی اور اس لئے بھی وہ مثانی ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں اسے پڑھا جاتا ہے۔وہ قرآن عظیم بھی ہے یعنی با وجود ام الکتاب اور اُم القرآن کہلانے کے وہ قرآن کریم کا حصہ بھی ہے اور اس سے الگ نہیں جیسا کہ بعض لوگوں نے غلطی سے سمجھ لیا ہے۔قرآن عظیم سورۃ فاتحہ کو انہی معنوں سے کہا گیا ہے جس طرح ہم کسی سے کہتے ہیں قرآن سناؤ اور مراد اس سے ایک سورۃ ایک رکوع ہوتا ہے۔ما سورۃ فاتحہ شفا ہے کہ اس میں تمام ان وساوس کا رد ہے جو انسان کے دل میں دین کے بارہ میں پیدا ہوتے ہیں اور وہ رُقيّة ہے کہ علاوہ دم کے طور پر استعمال ہونے کے اس کی تلاوت شیطان اور اس کی ذریت کے حملوں سے انسان کو بچاتی ہے اور دل میں ایسی قوت پیدا کرتی ہے کہ شیطان کے حملے بے ضرر ہو جاتے ہیں اور وہ کنز بھی ہے کہ علوم وفنون کے اس میں دریا بہتے ہیں۔اردو میں دریا کوزے میں بند کرنے کا ایک محاورہ ہے اس کا صحیح مفہوم شاید 109