نُورِ ہدایت — Page 1058
اور اسلام غالب ہو جائے گا۔بلکہ اگر کسی نے اسلام کومٹانے کے لئے اس پر حملہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس حملہ آور کو تباہ کر دے گا۔نہ صرف اس کو بلکہ ان کو بھی جو اس حملہ آور کی تائید میں ہوں گے۔ایسے لوگ جو اسلام کے خلاف حملہ آور ہونے والے تھے ان کو اس سورۃ میں ابولہب کے نام سے پکارا ہے۔اور ان کو جو ایسے لوگوں کی تائید میں ہوں گے۔بیوی کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔گویا ابولہب سے مراد ائمہ کفر ہیں اور اس کی بیوی سے مراد اُن کے اتباع۔اس سورۃ کا تعلق سورۃ کوثر سے بھی ہے۔سورۃ کوثر میں رسول کریم لالا لال لال سے دو وعدے کئے گئے تھے۔(1) کثرت جماعت کا وعدہ۔(2) دشمنوں کی تباہی کا وعدہ۔گویا پہلے وعدہ کے پورا ہونے کا ذکر سورۃ نصر میں کیا گیا ہے اور دوسرے وعدے کے پورا ہونے کا ذکر سورۃ لہب میں ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کو بالکل ابتدائی زمانہ میں نازل فرما کر مسلمانوں کی ہمت بندھائی کہ گھبراؤ نہیں گو تم کمزور اور ضعیف ہو لیکن تمہارا مددگار وہ طاقتور خدا ہے کہ جس کے منشاء کے ماتحت زمین و آسمان کے ذرات حرکت میں آتے ہیں۔پس جو بھی تمہاری مخالفت کرے گا وہ رُسوا و خوار ہوگا اور تباہی کا منہ دیکھے گا۔پھر مضمون کے اعتبار سے اس سورۃ کو بالکل آخر میں رکھا۔تا آئندہ آنے والی نسلوں کے حوصلے بلند ہوں اور کسی زمانہ میں کفر کی طاقت کو دیکھ کر مسلمان گھبرا نہ جائیں۔بلکہ یہ یقین رکھیں کہ اسلام کا خدا غالب خدا ہے اور وہ اس کے دشمنوں کو خود تباہ کر دے گا۔گویا سورۃ نصر اور سورۃ لہب امت کے نام دو آخری پیغام ہیں۔ایک زیادتی ایمان اور ترقی ایمان کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا کفر کی ہلاکت کی طرف ذہن کو منتقل کرتا ہے۔اس سورۃ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ابولہب کے نام کی مستحق اقوام جو آخری زمانہ میں پیدا ہوں گی۔اللہ تعالیٰ اُن کو اور اُن کے ساتھیوں کو نا کام کر دے گا۔ا اس کے بعد فرماتا ہے کہ علاوہ غیر قوموں کے جو کہ بطور ہاتھ کے ہیں۔خود ان ملکوں میں بھی ایسے گروہ پائے جائیں گے جو کہ خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ علی ایم کے خلاف جنگ کرنے 1058