نُورِ ہدایت — Page 1057
آنحضرت علی ایم کے حق میں کی تھی اُلٹ کر خود اُسی پر پڑی۔یہ ایک مباہلہ تھا جو کہ آنحضرت علی کے ساتھ اس کا فر نے کیا تھا اور اس قسم کے مباہلوں کی مثالیں خود اس زمانہ میں بھی قائم ہو چکی ہیں۔اس سورۃ شریف میں کفار کے سرداروں میں سے ایک کو لیا گیا اور نام ذکر کیا گیا ہے۔مگر دراصل اس میں تمام کفار کے سرداروں کی ہلاکت کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت علایم کے بالمقابل کھڑے ہوئے تھے۔اور آپ کی مخالفت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہاتھ بڑھاتے تھے۔خدا تعالیٰ نے ان سب کو ہلاک کیا اور دین و دنیا میں خائب و خاسر کر دیا۔(ماخوذ از حقائق الفرقان - زیر سورة اللهب ) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حمد سورۃ اللہب مکی سورۃ ہے۔مضمون کے اعتبار سے سورۃ اللہب قرآن کریم کی آخری سورۃ ہے۔کیونکہ ہماری ترتیب کے لحاظ سے اس پر قرآن کریم کا مضمون ختم ہو جاتا ہے۔اس کے بعد کی تین سورتوں میں قرآن کریم کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے۔اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے تعلق ہے کہ پہلی سورۃ میں رسول کریم عالم کو تسلی دی گئی تھی کہ وہ فتوحات جو آپ کو ہورہی ہیں وہ آپ کی حیات تک محدود نہیں بلکہ ان فتوحات کے دروازے آپ کی وفات کے بعد بھی کھلے رہیں گے۔یہاں تک کہ اسلام دنیا پر غالب آجائے گا۔اور پھر یہ بھی بیان کیا گیا تھا کہ جب اسلام کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوگی جو اس کی کشتی کو بھنور سے نکالے اور اس کا جھنڈ اسرنگوں نہ ہونے دے۔اللہ تعالیٰ اُس وقت کسی ایسے شخص کو کھڑا کر دے گا اور امت محمدیہ علیم کی دستگیری فرمائے گا۔م سورۃ لہب میں سورۃ نصر کے مضمون کو مکمل کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ صرف یہی نہیں ہوگا کہ رسول کریم علیم کی وفات کے بعد فتوحات کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے 1057