نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1046 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1046

نظام الدین اولیاء جیسے بزرگ تھے اور ایسے بے شمار لوگ جو دھونی رما کر بیٹھ گئے اور یہ عہد لے کے اپنی ساری زندگی اس عہد کی ایفاء میں صرف کر دی کہ ہم ان جاہلوں کو، ان اندھیروں میں بسنے والوں کو خدا کی طرف سے علم اور عرفان عطا کریں گے اور قرآن کا جاری کردہ نور عطا کریں گے۔پس جماعت احمدیہ کو کبھی بھی اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔آنحضرت علی کو جب اسلامی فتوحات کے ساتھ یہ خوش خبریاں بھی دی گئیں کہ ان فتوحات کے ساتھ ان کے عقب میں لازماً سیاسی فتوحات بھی آئیں گی اور قیصر و کسریٰ کی چابیاں بھی بعد میں آنے والے مسلمان کے ہاتھ میں تھمادی جائیں گی اور یمن کے محلات کے دروازوں کو آپ نے دیکھا اور شام کے سرخ محلات کو اور ایران کے سفید محلات کو اپنی آنکھوں کے سامنے آپ نے دیکھا تو اس کے نتیجہ میں آپ فکرمند ہو گئے۔خدا کی تکبیر بھی کی، خدا کی تسبیح و تحمید بھی فرمائی لیکن ایک گہرا فکر آپ کو لاحق ہو گیا۔چنانچہ اس فکر کا اظہار آپ نے اس طرح فرمایا کہ ایک موقع پر صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم پر نعمائے دنیا کے دروازے کھولے جائیں گے یہاں تک کہ تم اپنے گھروں کو اس طرح سجاؤ گے جیسے خانہ کعبہ کو سجایا جاتا ہے۔یہ فرما کر آپ نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے راہ حق کے درویشوں سے فرمایا لیکن سنو تم جو میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہو تمہاری حالت ان آنے والے لوگوں سے بدرجہ ہا بہتر ہے (مسند احمد بن حنبل جلد 2 حدیث نمبر 19205)۔پس آپ کے نزدیک فتح دین کی فتح تھی ، فتح اخلاق کی فتح تھی، فتح کردار کی فتح تھی، فتح اپنے نفس پر غالب آنے کا نام تھا اور وہ نعمتیں ہی نعمتیں تھیں جو روحانی نعمتیں تھیں اور ان کے مقابل پر بعد میں آنے والی دنیاوی فتح سے تعلق رکھنے والی نعمتوں کی حضرت اقدس محمد مصطفی صیام کی نظر میں کوئی بھی قیمت نہیں تھی۔اسی طرح حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ آنحضرت علیم نے فرمایا کہ جن چیزوں سے میں تمہارے متعلق ڈرتا ہوں ان میں سے دنیا کی زیب وزینت بھی ہے جو تم پر 1046