نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1047 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1047

چاروں طرف سے کھول دی جائے گی۔اس پر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا خیر شر کو بھی ساتھ لائے گا؟ یعنی ایک طرف تو یہ خیر کی باتیں ہیں، خوش خبریاں بھی بیان کی جاتی ہیں۔دوسری طرف آپ ڈرا رہے ہیں۔تو کیا خیر شر کو بھی ساتھ لائے گا؟ روایت کرنے والے بتاتے ہیں کہ اس پر حضور اکرم صلیہ خاموش ہو گئے اور سوال کرنے والے کو جواب نہ دیا۔جب ہم نے آپ کے چہرے کو دیکھا تو اس وقت محسوس ہوا کہ آپ پر وحی نازل ہورہی ہے اور اسی حالت میں آپ نے اپنے ماتھے سے پسینہ پونچھا اور پھر پوچھا کہ وہ سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس پر ہم سمجھ گئے کہ محبت اور پیار سے اس کا نام لے رہے ہیں، پسندیدگی سے لے رہے ہیں ، آپ کو سوال پسند آیا تھا اس کا جواب آ گیا ہے۔تو جب بتایا گیا تو آپ نے فرمایا دیکھو خیر شر کو جنم نہیں دیا کرتی ، خیر سے شر پیدا نہیں ہوتا لیکن تم دیکھتے ہو کہ جب بہار آتی ہے تو بہار میں اُگنے والی فصلوں کے ساتھ ایسی جڑی بوٹیاں بھی تو اُگ آتی ہیں جن کو کھانے سے لوگ مرجاتے ہیں یا مر سکتے ہیں (بخاری کتاب الزکوۃ حدیث نمبر 1372)۔تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وحی میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی لا علم کو اس سوال کا یہ جواب سکھایا۔تو ظاہری فتح بھی جب مسلمانوں کو نصیب ہوتی ہے تو اس کے نتیجہ میں بھی وہ خیر حاصل کر سکتے ہیں۔ظاہری فتح کا نام شر نہیں رکھا گیا۔شر اس بات کا نام رکھا گیا ہے کہ ظاہری فتح کے ساتھ جو انسان کی روحانی زندگی کو مارنے والی اور مہلک جڑی بوٹیاں اگتی ہیں۔نعمتوں کے نام پر بعض ایسی چیزیں حاصل ہوتی ہیں جو انسانی زندگی کو تباہ کرنے والی ہوتیں ہیں۔اگر ان سے احتراز کرو تو ظاہری فتح بھی ایک رنگ میں دین کے تابع ہو سکتی ہے اور حقیقی نعمت شمار کی جاسکتی ہے۔چنانچہ اسی موقع پر آنحضرت علی نے پھر فرمایا کہ دیکھو مومن کو جو مال عطا ہوتا ہے، جو نعمتیں ملتی ہیں وہ نعمتیں بنتی ہیں جب وہ ان سے خدا کے حق ادا کرتا ہے۔جب وہ اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے، غریبوں کے اوپر خرچ کرتا ہے، مصیبت زدگان پر خرچ کرتا ہے اور خرچ کی کئی اقسام بتائیں کہ اس طریق پر نعمتیں نعمتیں بھی رہ سکتی ہیں اور عذاب میں تبدیل نہیں ہوتیں۔لیکن یہ ایک ثانوی چیز ہے۔حقیقی نعمت حقیقی خیر حقیقی خوش خبری اسی بات میں ہے کہ دین 1047