نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1045 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1045

غلطیوں سے پاک ہے، تو ہی ہے جس کی تدبیر کامل ہے اور اس میں کوئی رخنہ نہیں اور تیری ہی تدبیر کے ذریعہ فتح حاصل ہوئی اور استغفار کا مضمون یہ بتا تا ہے کہ ہم اس کے باوجود کہ تیری تدبیر غلطیوں سے پاک تھی اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم نے غلطیاں کیں۔جو نقشے تو نے بنائے تھے اسلام کی فتح کے ان کی اینٹیں رکھنے والے معمار تو ہم تھے مگر ہم نے اینٹیں غلط رکھیں، بار بار نقشے کی خلاف ورزی کی ، بار بار ایسے رخ پر غلطی سے اینٹیں رکھ دیں کہ جس کے نتیجہ میں اس عمارت میں رخنے پیدا ہو سکتے تھے اس لئے ہم استغفار کرتے ہیں۔تو ہمیں بخش ، ہم اس فتح کے لائق نہیں، ہماری غلطیوں کے باوجود عطا ہونے والی فتح ہے۔تو دیکھئے کتنا مختلف رخ ہے اور کتنا مختلف مزاج ہے، کتنے مختلف تقاضے ہیں فتح مند فوجوں کے ساتھ وابستہ۔پس جماعت کو دینی فتح کو دنیا کی فتح کے ساتھ باہم دیگر اس طرح ملا نہیں دینا چاہئے کہ اشتباہ پیدا ہو جائے کہ گویادین کی فتح اور دنیا کی فتح ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ بعض اسلامی مؤرخین نے یہغلطی کر کے اسلام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔جب مسلمان بادشاہوں نے بعض دیگر ممالک کو فتح کیا وہ ان کی سیاسی فتوحات تھیں۔وہاں يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللہ افواجا کا کوئی نقشہ آپ کو نظر نہیں آئے گا۔اس کے برعکس وہ ایک سیاسی غلبہ تھا جہاں تلواروں کے زور سے اور تیر و تفنگ کے زور سے بعض فوجیں بعض دوسرے ملکوں میں داخل ہورہی تھیں۔وہاں بحث یہ تو اٹھائی جاسکتی ہے کہ سیاسی اقدار کے لحاظ سے، سیاسی اخلاقی تقاضوں کے اعتبار سے کسی ایک ملک کو کسی دوسرے ملک کے خلاف فوج کشی کا حق تھا کہ نہیں تھا۔یہ تو جائز ہے لیکن ان سب جنگوں کو اسلامی جہاد کا نام قرار دینا اور ان سب فتوحات کو اسلامی فتوحات قرار دینا یہ درست نہیں ہے۔دراصل اس زمانے میں جو فاتح اسلام تھے وہ تو بزرگ اور اولیاء اور فقیر اور درویش تھے جو قطع نظر اس سے کہ سیاسی حالات کیا ہیں دن رات اسلام کی خدمت میں مصروف تھے۔ہندوستان کی تاریخ پر ہی نظر ڈال کر دیکھ لیں تو ہندوستان کا مسلمان فاتح تو بابر کو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اسلامی فاتح قرار نہیں دیا جاسکتا۔اسلامی فاتح کا نام پانے والے بزرگ تو 1045