نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 973 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 973

میں خدا کے حکم کے ماتحت تجھے چومتا ہوں۔یہی جذ بہ توحید تھا جس نے ان کو دنیا میں سر بلند کیا۔وہ خدائے واحد کی توحید کے کامل عاشق تھے۔وہ یہ برداشت ہی نہیں کر سکتے تھے کہ اس کی طاقتوں میں کسی اور کو شریک کیا جائے۔بے شک وہ حجر اسود کا ادب بھی کرتے تھے مگر اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے اس کا ادب کرو۔نہ اس لئے کہ حجر اسود کے اندر کوئی خاص بات ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر خدا تعالیٰ ہمیں کسی حقیر سے حقیر چیز کو نچومنے کا حکم دے دے تو ہم اس کو چومنے کے لئے بھی تیار ہیں کیونکہ ہم خدا تعالیٰ کے بندے ہیں، کسی پتھر یا مکان کے بندے نہیں۔پس وہ ادب بھی کرتے تھے اور تو حید کو بھی نظر انداز نہیں ہونے دیتے تھے اور یہی ایک سچے مومن کا مقام ہے۔ایک سچا مومن بیت اللہ کو ویسے ہی پتھروں کا ایک مکان سمجھتا ہے جیسے دنیا میں اور ہزاروں مکان پتھروں کے بنے ہوئے ہیں۔ایک سچا مومن حجر اسود کو ویسا ہی پتھر سمجھتا ہے جیسے دنیا میں اور کروڑوں پتھر موجود ہیں مگر وہ بیت اللہ کا ادب بھی کرتا ہے، وہ حجر اسود کو چومتا بھی ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرے رب نے ان چیزوں کے ادب کرنے کا مجھے حکم دیا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ وہ اس مکان کا ادب کرتا ہے، باوجود اس کے کہ وہ حجر اسود کو چومتا ہے، پھر بھی وہ اس یقین پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتا ہے کہ میں خدائے واحد کا بندہ ہوں ، کسی پتھر کا نہیں۔یہی حقیقت تھی جس کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اظہار فرمایا۔آپ نے حجر اسود کو سوئی ماری اور کہا میں تیری کوئی حیثیت نہیں سمجھتا۔تو ویسا ہی پتھر ہے جیسے اور کروڑوں پتھر دنیا میں نظر آتے ہیں۔مگر میرے رب نے کہا ہے کہ تیرا ادب کیا جائے اس لئے میں ادب کرتا ہوں۔یہ کہہ کر وہ آگے بڑھے اور اس پتھر کو بوسہ دیا۔اس کا مطلب یہی تھا کہ خدا نے تیرا ادب سکھایا ہے اس لئے میں ادب کرتا ہوں ورنہ تیرے اندر ذاتی طور پر کوئی ایسی طاقت نہیں جس کی بناء پر تجھے چوما جاسکے۔جب اس احساس کے ساتھ ہم حجر اسود کو چومتے ہیں کہ ہمارے خدا نے اس کو چومنے کا حکم دیا ہے ورنہ وہ ایک معمولی پتھر ہے تو ہم تو حید پر قائم ہوتے ہیں۔اور جب ہم اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اس پتھر کو کسی 973