نُورِ ہدایت — Page 972
اور جب تک ہم اپنے پیمان کو پورا نہیں کرتے اس وقت تک خدا تعالیٰ کا ہمارے متعلق جو عہد ہے اس کے بھی ہم کبھی حقدار نہیں ہو سکتے۔اب میں پھر نفس مضمون کی طرف آتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ نتیجہ ہے لا يُلفِ قريش الفِهِمُ رِحْلَةَ الشَّتَاءِ وَالصَّيْفِ کا۔یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اہل مکہ سے احسان اور سلوک اسی لئے کیا تھا کہ وہ ہماری عبادت کرتے۔آخر کیا حق تھا ان کا ہم پر کہ ہم دوسروں کے مقابلہ میں ان سے نمایاں سلوک کرتے۔کیا یورپ والے ہمارے دشمن تھے؟ کیا ہندوستان والے ہمارے دشمن تھے؟ کیا حبشی ہماری مخلوق نہیں تھے؟ پھر کیوں ہم نے ان کی ترقی کا خاص سامان کیا؟ اس لئے کہ وہ ہمارے گھر کے پاس رہتے ہیں۔تا ایسانہ ہو کہ انہیں روٹی کی تکلیف ہو اور وہ اس مقام کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔مگر دیکھو ہم تو انہیں روٹی دیتے رہے مگر انہوں نے ہمارا خیال نہ رکھا حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ اس احسان کے بدلے میں وہ رَبُّ الْبَیت کی عبادت کرتے اور ہمارے احسانات کی قدر کرتے۔یہاں رَبُّ الْبَیت کیوں کہا ہے ؟ صرف بیت کیوں نہیں کہا۔اس لئے کہ قرآن کریم اس بات کا قائل نہیں کہ کوئی بے جان چیز اپنے اندر طاقتیں رکھتی ہے۔وہ طاقتوں کا مالک صرف خدا تعالیٰ کو سمجھتا ہے۔پس توحید کامل کا سبق دینے کے لئے یہاں رَبُّ الْبَيْتِ کے الفاظ رکھے گئے ہیں۔یعنی مکہ والے یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس بیت کی وجہ سے انہیں یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔حالانکہ یہ اعزاز انہیں بیت کی وجہ سے نہیں بلکہ رَبُّ الْبَیت کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔گویا نتیجہ یہ نکالا گیا ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ خانہ کعبہ نے کچھ کیا ہے۔خانہ کعبہ کچھ نہیں کر سکتا۔وہ مٹی کا ایک مکان ہے اور اس میں یہ طاقت ہر گز نہیں کہ وہ کسی کو کوئی فائدہ پہنچا سکے۔اس گھر کا رب ہے جو سب طاقتوں کا مالک ہے۔احادیث میں آتا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ طواف کر رہے تھے کہ آپ حجر اسود کے پاس سے گزرے اور آپ نے اسے اپنی سوٹی ٹھکرا کر کہا میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اور تجھ میں کچھ بھی طاقت نہیں۔مگر 972