نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 959 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 959

قوم کے افراد اپنے لئے تمام ترقی کے راستوں کو روک کر اس گھر کو آباد رکھنے کے لئے جسے وہ خدا کا گھر سمجھتے ہیں کمائیں آپ اور کھلائیں دوسروں کو۔انفرادی مثالیں تو مل جاتی ہیں مگر قومی طور پر اور متواتر ایک لمبے عرصہ تک اس قسم کی حیرت انگیز قربانی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اور جب تک اس قسم کی مثال پیش نہیں کی جائے گی اس وقت تک دنیا کی الجھنوں کا حل بھی پیدا نہیں ہوگا۔یہاں یہ سوال بھی غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ ایلاف کیوں اتاری؟ قریش نے تو جو کچھ کرنا تھا کر لیا اور محمد رسول اللہ علیم کا زمانہ آ گیا۔اس زمانہ میں قریش کی تعریف کرنے کے تو یہ معنے تھے کہ ان کو اور بھی مغرور کر دیا جائے۔وہ کہہ سکتے تھے کہ دیکھا ہمیں کافر کافر کہتے تھے مگر ہم نے کتنی قربانی کی۔پھر اللہ تعالیٰ نے ایسا کیوں کیا ؟ اسی لئے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہے کہ تم بھی قربانی کا یہ نمونہ پیش کرو۔قریش کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لئے کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو توجہ دلائے کہ کسی زمانہ میں ایک کافراور مشرک قوم مکہ میں آکر بسی اور اس نے مکہ کو بسانے کے لئے ایسی حیرت انگیز قربانی کی جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔بے شک ان میں یہ خوبی خدا تعالیٰ کے تصرف سے پیدا ہوئی مگر تمہارے ساتھ بھی تو اس کا فضل ہے۔تمہیں بھی اس قربانی کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے اسلام کے لئے ایسی ہی قربانی پیش کرنی چاہئے اور ایسا ہی نمونہ دکھانا چاہئے جیسے ان لوگوں نے دکھایا۔پس لا يُلفِ قُرَيْش الفِهِمْ رِحْلَةَ الشَّتَاءِ وَالضَّيْفِ والی آیات یہی سبق دینے کے لئے نازل ہوئی ہیں کہ خدا اب بھی اصحاب الفیل کا واقعہ دکھانے کے لئے تیار ہے مگر تم بھی تو قریش والا نمونہ دکھاؤ۔اصحاب الفیل والا نشان کن لوگوں کے لئے ظاہر کیا گیا تھا ان لوگوں کے لئے جنہوں نے سوا دو سو سال تک وہ قربانی کی جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔انہوں نے اپنی جانیں دے دیں مگر مگہ نہ چھوڑا۔وہ بھوک سے نڈھال ہو کر 959