نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 960 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 960

جب موت کے قریب پہنچ جاتے تو اپنا خیمہ اٹھاتے اور مکہ سے باہر چلے جاتے۔ان کے سامنے ان کے بیوی بچے مرجاتے ، ان کے سامنے ان کے بھائی مرجاتے ، ان کے سامنے ان کی بہنیں مرجاتیں، ان کے سامنے ان کے دوست اور رشتہ دار مر جاتے مگر وہ کسی سے کچھ مانگتے نہیں تھے۔وہ اس تکلیف کی وجہ سے مکہ کو چھوڑتے بھی نہیں تھے۔وہ ایک ایک کر کے مر گئے، مٹ گئے اور فنا ہو گئے مگر انہوں نے مکہ کو نہ چھوڑا۔تم بھی یہ قربانی کرو تو خدا تمہارے لئے بھی اصحاب الفیل والا نشان دکھا دے گا۔بلکہ وہ تو غیر مومن تھے ان کے لئے دیر کے بعد نشان ظاہر ہوا۔تم مومن ہو تمہارے لئے یہ نشان جلد ظاہر ہو جائے گا۔مگر پہلے قربانی کی مثال تو ہونی چاہئے۔پھر تمہارا بھی حق ہوگا کہ تم خدا سے کہو کہ ہم نے اپنی قربانی تو پیش کر دی ہے اب تُو بھی ہماری تائید میں اپنا نشان دکھا۔لیکن اپنا فرض ادا نہ کرنا اور خدا تعالیٰ سے کہنا کہ وہ وعدہ پورا کرے یہ کوئی دیانتداری نہیں۔خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا ہے اور یقیناً وہ سب سے زیادہ سچا ہے مگر وہ تبھی نشان دکھاتا ہے جب اس کے مقابلہ میں بندہ بھی قربانی پیش کرتا ہے۔۔۔۔جب تک یہ احساس قائم نہ ہو جائے اور پھر اس احساس کو دوسروں کے اندر قائم نہ کیا جائے اُس وقت تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔خلیفہ آخر کیا کر سکتا ہے۔دو یا چار یا پانچ لاکھ یا دس لاکھ آدمیوں کو سمجھانے کے لئے ایک ایک کے گھر پر تو نہیں جاسکتا۔اس کا طریق تو یہی ہے کہ لوگ سنیں اور آگے پہنچائیں ، وہ سنیں اور آگے پہنچائیں۔جب تک وہی آگ ان کے دلوں میں بھی نہ لگ جائے ، وہی تڑپ ان کے دلوں میں بھی پیدا نہ ہو جائے جو خلیفہ وقت کے دل میں لگی ہوئی ہو اور جب تک ایک ایک احمدی دوسرے کو پکڑ کر یہ نہ کہے کہ تم میں فلاں غلطی ہے اس کی اصلاح کرو اس وقت تک یہ کام ہو ہی کس طرح سکتا ہے۔دیکھو رسول کریم علی لالی نے بھی اپنی وفات کے قریب جب حجۃ الوداع میں لوگوں کو جمع کر کے ایک تقریر کی تو اس آخری وصیت میں آپ نے یہی کہا کہ فَلْيُبلغ الشَّاهِدُ الْغَائِب۔میں نے بات کہہ دی ہے مگر میری بات سب لوگوں کے 960