نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 910 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 910

وہ خدا کی طرف سے ہے۔یہ کتنا بڑا دعویٰ ہے جو قرآن کریم نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔دنیا کی اور الہامی کتب میں سے ہر کتاب الہی ہونے کا تو دعوی کرتی ہے مگر وہ کتاب کے ہر ٹکڑے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرار نہیں دیتی۔عیسائی خود اپنے ہاتھ سے لکھتا ہے کہ انجیل میں فلاں فلاں بات غلط ہے اور پھر کہتا ہے کہ انجیل خدا کی کتاب ہے۔اور جب اس سے پوچھا جائے کہ یہ کیا۔ایک طرف تو تم انجیل کی بعض باتوں کو غلط قرار دیتے ہو اور دوسری طرف اسے الہی کتاب کہتے ہو؟ تو وہ جواب دیتا ہے کہ انجیل صرف اپنی مجموعی حیثیت میں خدا کی کتاب ہے۔یہ نہیں کہ اس کا ہر لکڑہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اسی طرح یہودی اپنے ہاتھ سے لکھتا ہے کہ بائبل کی فلاں فلاں بات غلط ہے اور پھر ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ بائبل خدا کی کتاب ہے۔اور جب اُس سے پوچھا جائے کہ وہ کیوں ایسا متضاد دعوی کرتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ بائبل بحیثیت مجموعی خدا کی طرف سے ہے۔یہ نہیں کہ اس کا ہر ٹکڑہ اللہ تعالی نے نازل کیا ہے۔اس کے مقابلہ میں قرآن کریم کی یہ کتنی بڑی فضیلت ہے کہ اس نے ہر ٹکڑے سے پہلے بسم اللہ نازل کر کے یہ دعویٰ پیش کیا ہے کہ اس کا ہر ٹکڑہ میری طرف سے ہے۔یہ بھی میری طرف سے ہے اور وہ بھی میری طرف سے ہے۔تا کوئی شخص بائبل یا انجیل کی طرح یہ نہ کہہ سکے کہ فلاں ٹکڑہ خدا کی طرف سے نہیں بلکہ نعوذ باللہ انسانوں نے اس میں ملا دیا ہے۔گو یا بسم اللہ نے قرآن کریم کے ہر ٹکڑے پر مہر لگادی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یہ کہ اگر کوئی ایک ٹکڑہ بھی غلط نکلے تو یہ کتاب خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتی۔بائبل پر ایمان رکھنے والا کہ دیتا ہے کہ بائبل کا جو حصہ پورا ہورہا ہے یہ خدا کی طرف سے ہے اور جو حصہ پورا نہیں ہورہا یہ انسانوں کی طرف سے ہے۔مگر قرآن کہتا ہے کہ اگر اس کتاب کا کوئی ایک ٹکڑہ بھی پورا نہیں ہوتا تو تم سمجھ لو کہ ساری کی ساری کتاب خدا کی طرف سے نہیں۔غرض بسم اللہ نے قرآن کریم کے ہر ٹکڑے کی ذمہ واری اللہ تعالیٰ پر ڈال دی ہے اور بار بار وہ اس ذمہ داری کا اظہار کرتا ہے۔بے شک بائبل بھی خدا تعالیٰ کی کتاب ہے مگر اس کے باوجود 910