نُورِ ہدایت — Page 909
ہے۔مثلاً یا وہ غیر معمولی ہوتی ہے عقیدہ کے لحاظ سے۔یعنی دنیا کے عقائد کچھ اور ہوتے ہیں اور قرآن کریم کوئی اور عقیدہ پیش کرتا ہے جس کی وجہ سے دنیا کہہ دیتی ہے کہ یہ غلط ہے۔یا وہ غیر معمولی ہوتی ہے آئندہ واقعات کے لحاظ سے۔یعنی اس میں ایسی پیشگوئی ہوتی ہے جو حیرت انگیز ہوتی ہے۔یا وہ غیر معمولی ہوتی ہے پرانے اخبار کے لحاظ سے۔یعنی تاریخ کچھ اور کہتی ہے مگر قرآن کہتا ہے کہ یہ صحیح نہیں اصل واقعہ یوں ہے۔یا غیر معمولی ہوتی ہے اس لحاظ سے کہ دنیوی قانونِ قدرت جو لوگوں نے سمجھ رکھا ہوتا ہے اس کے خلاف ہوتی ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم نے یہ بات سائنس کے خلاف کہہ دی ہے۔بہر حال کوئی نہ کوئی غیر معمولی بات اس میں آجاتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہر سورۃ سے پہلے بسم الله الرّحمٰنِ الرَّحِیمِ کو رکھا ہے۔یعنی میں اللہ کا نام لے کر شروع کرتا ہوں جو بغیر کسی محنت اور کوشش کے اور بغیر کسی استحقاق کے سامان مہیا کرتا ہے۔پھر وہ ایسا خدا ہے کہ جب کوئی شخص اس کے پیدا کردہ سامانوں سے کام لیتا ہے تو وہ اس کی کوشش کا بہتر سے بہتر بدلہ دیتا ہے۔جیسے دنیا میں بعض دفعہ بڑے آدمی کو گواہی کے طور پر پیش کر دیا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر سورۃ سے پہلے اپنے آپ کو بطور گواہ پیش کیا ہے۔ما قرآن کریم میں چونکہ غیر معمولی مطالب آتے ہیں اس لئے ہر سورۃ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بسم اللہ رکھ دی ہے، یہ بتانے کے لئے کہ تم کہو گے کہ یہ تو غیر معمولی باتیں ہیں ہم کیسے مان لیں کہ اس طرح ہو کر رہے گا۔ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ان خبروں کا بتانے والا کوئی انسان نہیں بلکہ ہم جو زمین و آسمان کے مالک ہیں یہ خبر دے رہے ہیں اس لئے ان خبروں کی سچائی پر تمہیں بہر حال ایمان رکھنا چاہئے۔یہی حکمت ہے جس کی بنا پر ہر سورۃ سے پہلے بسم اللہ رکھ دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ تم کو اگر اس میں کوئی غیر معمولی یا ناممکن بات نظر آئے یا آئندہ کے متعلق کوئی پیشگوئی ہوجس کا پورا ہونا بظاہر مشکل نظر آتا ہو تو تم اس کو غلط مت سمجھو۔اس لئے کہ 909