نُورِ ہدایت — Page 911
بائبل کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس میں ایسے حصے ہیں جو انسانوں نے اپنے ہاتھ سے اس میں ملا دیتے ہیں۔اسی طرح انجیل کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے مگر اس کے باوجود اس میں ایسے ٹکڑے بھی ہیں جن کے متعلق عیسائی کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں۔یہی مشکل قرآن کریم کے متعلق بھی پیش آسکتی تھی۔اگر ایک دفعہ ہی قرآن کریم میں بسم اللہ آتی تو ہوسکتا تھا کہ بعض مسلمان اپنی بے ایمانی میں یہ کہہ دیتے کہ فلاں ٹکڑہ خدا کی طرف سے نہیں بعض انسانوں نے اس میں ملا دیا ہے۔اس نقص کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر ٹکڑہ سے پہلے بسم اللہ نازل کر دی ہے اور اس طرح بتایا ہے کہ قرآن کریم سارے کا سارا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔بائبل کی اگر ایک آیت غلط ثابت ہو جائے تو یہودی یہ نہیں مانے گا کہ ساری بائبل غلط ہے۔انجیل کی اگر ایک آیت غلط ثابت ہو جائے تو عیسائی یہ نہیں مانے گا کہ ساری انجیل غلط ہے۔لیکن قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ ہم دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کرتے ہیں کہ اس کا ایک ایک ٹکڑہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اس کی چھوٹی سے چھوٹی سورۃ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کی بڑی سے بڑی سورۃ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اگر کوئی ایک ٹکڑہ بھی غلط ثابت ہو جائے تو سمجھ لو کہ سارا قرآن غلط ہے خدا نے اسے نازل نہیں کیا۔یہ کتنا عظیم الشان دعوی ہے جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔اس کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی الہامی کتاب نہیں ٹھہر سکتی۔دنیا میں لوگ اپنی ذمہ داریاں کم کیا کرتے ہیں مگر قرآن کریم نے بار بار بسم اللہ نازل کر کے اپنی ذمہ داریوں کو بہت بڑھا لیا ہے۔اگر ایک دفعہ بسم اللہ آتی تو خیال کیا جا سکتا تھا کہ کچھ ٹکڑے ایسے بھی ہوں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوں۔مگر ہر سورۃ سے پہلے بسم اللہ نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ کوئی ٹکڑہ بھی ایسا نہیں جس کی صداقت کی ذمہ داری ہم نہ لیتے ہوں۔اس لئے کسی ایک ٹکڑے کا غلط ہونا در حقیقت سارے قرآن کا غلط ہونا ہے۔مگر کوئی ایک ٹکڑہ بھی ایسا ثابت نہیں کیا جا سکتا جو غلط ہو اور جس کی صداقت دنیا پر واضح نہ کی جاسکتی ہو۔غرض یہ آیت قرآن کریم کے مشترک مضامین 911