نُورِ ہدایت — Page 908
تھی۔اسماعیل کا موت سے بچ جانا کونساممکن تھا۔خانہ کعبہ کا بن جانا اور سارے عرب کی توجہ کا اس کی طرف پھر جانا کونسا ممکن تھا۔28 سوسال کے بعد ایک جرار لشکر کے دل میں خانہ کعبہ پر حملہ کرنے اور اسے گرا دینے کا احساس پیدا ہونا کونساممکن تھا۔اس دشمن کا تباہ ہونا کونساممکن تھا اور پھر اس دشمن کی تباہی کے عین دو ماہ بعد اس شخص کا پیدا ہو جانا جس کی خاطر خانہ کعبہ کو بسایا گیا تھا کونسا ممکن تھا۔اگر یہ ساری ناممکن باتیںممکن ہوگئی ہیں تو اگلے جہان کی باتوں پر تم کیا اعتراض کرتے ہو۔جس خدا نے یہ باتیں پوری کی ہیں وہی اگلے جہان کی باتوں کو بھی پورا کردے گا۔غرض قرآن کریم کا یہ طریق ہے کہ وہ اس دنیا کی خبروں اور اگلے جہان کی خبروں کو ملا کر بیان کرتا ہے۔اسی طرح جزا وسزا اور تبشیر وانذار کی خبروں کو بھی ملا کر بیان کرتا ہے تا کہ وہ قریب الفہم ہو جائیں مثلاً اگلے جہان کی دوزخ اور اگلے جہان کی جنت کی حقیقت انسانی سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک وہ اس جہان سے تعلق رکھنے والی انداری خبروں اور بشارتوں کو پورا ہوتے نہ دیکھ لے۔جب وہ اس جہان سے تعلق رکھنے والی خبروں کو پورا ہوتے دیکھ لیتا ہے تو اس کے دل میں خود بخود یہ یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ جب یہ ناممکن باتیں ممکن ہو گئی ہیں تو اگلے جہان سے تعلق رکھنے والی خبریں بھی ضروری پوری ہو کر رہیں گی۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ (میں) اللہ تعالیٰ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا ( اور بار بار رحم رکنے والا ہے ( شروع کرتا ہو )۔بسم اللہ کی آیت تمام سورتوں میں مشترک ہے جو ہر سورۃ سے پہلے آتی ہے۔میری تحقیق کے مطابق بسم اللہ مضامین سورۃ کھولنے کی کنجی ہے اور اس میں ایسے گر بتائے گئے ہیں جن سے اگلی سورۃ کے مضامین خود بخود کھل جاتے ہیں۔بڑی چیز جوبسم اللہ کے ذریعہ ظاہر کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی ہر سورۃ میں کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور ہوتی ہے جو غیر معمولی ہوتی 908