نُورِ ہدایت — Page 907
رسول اللہ علی پیدا ہونے والے تھے بتاتا ہے کہ اس پیشگوئی کی ایک کڑی اللہ تعالیٰ کے تصرف میں تھی اور اسی نے مخالف حالات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا کیا۔دعائے ابراہیمی میں صاف طور پر یہ الفاظ آتے ہیں کہ الہی تو میری اولاد میں سے ایک ایسا انسان مبعوث کر جو دنیا کو ہدایت دینے والا ہو اور ساتھ ہی یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ کو محفوظ رکھے۔یہ دونوں دعائیں اللہ تعالیٰ کی کمال حکمت کے ماتحت ایک ہی وقت میں پوری ہوتی ہیں۔محرم میں خانہ کعبہ کو برباد کرنے والا دشمن اٹھتا ہے۔اور ربیع الاول میں وہ شخص پیدا ہو جاتا ہے جو کہتا ہے کہ میں دعائے ابراہیمی کا مصداق ہوں مگر 22 سوسال تک نہ کسی نے خانہ کعبہ پر حملہ کیا اور نہ کسی نے یہ کہا کہ میں دعائے ابراہیمی کا مصداق ہوں۔کیا یہ سب کچھ اتفاق ہے؟ محمد رسول اللہ صل تعلیم کے دعویٰ کو تم اتفاق کہہ لومگر کیا ابرہہ کے حملہ کو بھی کوئی اتفاق کہ سکتا ہے؟ یقیناً اگر تعصب سے کام نہ لیا جائے تو نہ محمد رسول اللہ علیم کے دعوی کو اتفاق کہا جا سکتا ہے اور نہ ابرہہ کے حملہ کو اتفاق کہا جاسکتا ہے۔بلکہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کے ازلی فیصلہ کے مطابق ہوا۔پیشگوئی کا پورا ہونا ناممکن نظر آتا تھا۔حالات قطعی طور پر مخالف تھے۔اور کوئی انسان محض اپنی عقل سے قیاس کر کے یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ پیشگوئی پوری ہو جائے گی۔مگر ناممکن حالات کو ممکن بناتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کو پورا کر دیا۔اگر اس دنیا میں ایسے نظارے نظر آسکتے ہیں تو کیا اُس خدا کی بتائی ہوئی وہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوسکتیں جو اگلے جہان سے تعلق رکھتی ہیں۔اگر ان پیشگوئیوں کا پورا ہونا ممکن ہے تو اگلے جہان سے تعلق رکھنے والی پیشگوئیوں کا پورا ہونا کیوں ممکن نہیں۔حمد غرض اللہ تعالیٰ نے هُمَزَۃ اور لُمَزَة کے ساتھ اس سورۃ کو جوڑ کر اس اعتراض کورڈ کیا ہے جو کفار کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے کہ اگلے جہان کے متعلق جو خبریں دی گئی ہیں وہ ہم کس طرح مان لیں۔اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ دعائے ابراہیمی کونسی ممکن 907