نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 905 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 905

چاہا کہ شاید ادھر اُدھر کوئی آدمی نظر پڑ جائے اور وہ ان کے لئے پانی کا انتظام کر دے یا پانی کا کچھ پتہ دے۔مگر وہاں آدمی کہاں؟ آخر جب بہت بیتاب ہو گئیں تو انہیں کسی کی آواز سنائی دی۔اس پر انہوں نے بلند آواز سے کہا اے خدا کے بندے تو جو کوئی بھی ہے میں تجھے قسم دیتی ہوں کہ اگر تجھے پانی کا پتہ ہے تو مجھے بتا کیونکہ میرا بچہ پیاسا مر رہا ہے۔اس کے جواب میں اس آواز دینے والے نے کہا۔ہاجرہ ! میں خدا کا فرشتہ ہوں۔جا اور دیکھ کہ خدا نے اسماعیل کے قدموں کے نیچے پانی کا ایک چشمہ پھوڑ دیا ہے۔چنانچہ وہ آئیں اور انہوں نے دیکھا کہ واقعہ میں زمین میں سے ایک چشمہ پھوٹ رہا ہے۔یہی چشمہ زمزم کہلاتا ہے۔اور اسی تبرک کی وجہ سے لوگ اس کا پانی ڈور ڈور لے جاتے ہیں بلکہ بعض لوگ وہاں اپنا کفن لے جاتے اور زمزم کے پانی سے گیلا کر کے لے آتے ہیں۔پھر حجر ہم قبیلہ وہاں سے گزرا۔اس قبیلہ کے آدمی چونکہ اسی راستہ سے یمن میں تجارت کے لئے جاتے تھے اور پانی نہ ملنے کی وجہ سے ان میں سے بعض مرجاتے تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ یہاں پانی موجود ہے تو انہوں نے خواہش کی کہ یہاں ایک درمیانی پڑاؤ بنا لیا جائے۔چنانچہ جب ہم قبیلہ کا رئیس حضرت ہاجرہ کے پاس آیا اور اس نے درخواست کی کہ ہمیں یہاں بسنے کی اجازت دی جائے ہم آپ کی رعایا بن کر رہیں رض رض گے۔حضرت ہاجرہ نے اس کی اس درخواست کو منظور فرما لیا اور اس طرح وہ ایک درمیانی پڑاؤ بن گیا جہاں حجر ہم قبیلہ کے اور بھی کئی لوگ رہنے لگ گئے۔رفتہ رفتہ اس پڑاؤ نے ایک گاؤں کی شکل اختیار کر لی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اسی قبیلہ کی ایک لڑکی سے شادی کرلی۔بھلا حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس جنگل میں جہاں سینکڑوں میل تک آبادی نہ تھی کہاں سے بیوی لانی تھی۔خدا نے ہی یہ سامان کیا کہ وہاں مجر ہم قبیلہ کا ایک گاؤں بسا دیا۔اس طرح ان کو بیوی بھی مل گئی اور ان کی اولاد کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔مگر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مگہ آباد کیا تھا اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ یہ ملہ کسی دن شہر بن جائے گا۔کون کہہ سکتا تھا کہ لوگ یہاں آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اپنا وقت گزاریں گے۔کون 905